جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی خطرناک قسم پھیلنے کا خدشہ ٗ اینٹی بائیو ٹکس دوائیوں کا بھی اثر نہیں ہورہاہے ٗ برطانوی تحقیق

datetime 25  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستانی و برطانوی ماہرین کی ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی ایک نئی مگر انتہائی خطرناک قسم پھیلنے کا خدشہ ہے، جس پر اینٹی بائیوٹکس دوائیوں کا بھی اثر نہیں ہو رہا۔ماہرین نے تاحال اس ٹائیفائیڈ کو کوئی مخصوص نام نہیں دیا تاہم تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ قسم اتنی خطرناک ہے کہ اس پر عام اینٹی بائیوٹک دوائیں بھی اثر نہیں کر رہیں، اور یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق برطانیہ کی کیمبرج اور پاکستان کی آغا خان یونیورسٹی کے ماہرین ٹائیفائیڈ کی اس نئی قسم پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں ٗجو پہلی بار نومبر 2016 میں رپورٹ ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق ٹائیفائیڈ کی اس خطرناک قسم کی شروعات صوبہ سندھ کے ضلع حیدرآباد کے تحصیل لطیف آباد سے ہوئی، جو فوری طور پر ملحقہ اضلاع اورعلاقوں تک پھیل گئی اور اب تک یہ برطانیہ تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خطرناک ٹائیفائیڈ صوبہ سندھ کے حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار، بدین اور جامشورو اضلاع کے دیگر علاقوں تک پھیل چکا ہے جس کے مریضوں میں حیران کن طور پر اضافہ دیکھنا میں آیا ہے۔مقامی ڈاکٹرز کے مطابق اس وقت حیدرآباد میں اس ٹائیفائیڈ میں مبتلا یومیہ کم سے کم 2 مریض آرہے ہیں، جن کی عمریں 3 سے 12 سال تک ہوتی ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق ٹائیفائیڈ کی اس خطرناک قسم کے مریضوں کو ابتدائی دنوں میں مسلسل اینٹی بائیوٹکس دی جاتی رہیں، مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، جس کے بعد اب متاثرہ علاقوں میں خصوصی اور مہنگی ویکسین فراہم کی گئی ہے۔رپوٹ کے مطابق حیدرآباد کے لطیف آباد اور قاسم آباد تعلقوں کے ڈھائی لاکھ بچوں میں خصوصی ویکسین ٹائپ ٗبار ٹی وی سی دی جا رہی ہے، کیوں کہ ان مریضوں پر بائیوٹکس اثر نہیں کر رہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ٹائیفائیڈ کی یہ قسم مضر صحت پانی استعمال کیے جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی، تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…