پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

عالمی ادارہ صحت نے پہلی بار پاکستانی دوا کو تسلیم کرلیا

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پہلی بار ایک پاکستانی دوا کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اپنی عالمی فہرست میں جگہ دی ہے، جس کے بعد اب اس دوائی کو بیرون ملک بھی برآمد کیا جاسکے گا۔ عالمی ادارہ صحت نے کراچی کی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی ’گیٹز فارما‘ کی ’موکسی فلوکساسن‘ نامی دوا کو اپنی انٹرنیشنل ٹینڈر لسٹ میں شامل کیا ہے۔

اس فہرست میں شامل دوائیوں کو دنیا کے دوسرے ممالک درآمد کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی جس دوا ’موکسی فلوکساسن‘ کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، وہ دنیا کی دیگر کمپنیاں بھی بناتی ہیں۔ یہ دوائی ’تپ دق‘ یعنی ٹی بی کے مریضوں کے لیے ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے ’موکسی فلوکساسن‘ کی 400 ملی گرام گولیوں کو اپنی ٹینڈر فہرست میں شامل کرکے پاکستان کی دوا ساز صنعت کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: گیم کھیلنے کو عالمی ادارہ صحت نے بیماری تسلیم کرلیا خیال رہے کہ پاکستان میں کم سے کم 450 دوا ساز کمپنیاں ہیں، جو کئی بیماریوں کی دوائیں تیار کرتی ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کسی پاکستانی دوا کو اپنی انٹرنیشنل ٹینڈر فہرست میں شامل کیا ہے۔ پاکستانی اخبار ’دی نیوز‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ’موکسی فلوکساسن‘ کو تسلیم کیے جانے کے بعد اب اس دوائی کو یورپ و امریکا سمیت دیگر منڈیوں میں بھی برآمد کیا جاسکے گا۔ اس دوائی کی برآمد سے ملک کی دوا ساز صنعت کو 10 ارب روپے سے زائد کے منافع کا امکان ہے۔ ’گیٹز‘ فارما نے اس دوائی کی رجسٹریشن کے لیے عالمی ادارہ صحت میں 2 سال قبل درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد ڈبلیو ایچ او نے اس دوائی کو اگست 2017 میں تسلیم کرلیا تھا، تاہم کمپنی کو گزشتہ ہفتے اطلاع دی گئی۔ مزید پڑھیں: ڈبلیوایچ اونے مخصوص،زیادہ یاانتہائی کم کھانے کوبیماری تسلیم کرلیا خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان کی ایک، بنگلہ دیش کی 6 جب کہ بھارت کی 100 دوائیوں کو تسلیم کیا جاچکا ہے۔

پاکستان میں پہلی دوا ساز کمپنی 1959 میں لگی تھی، اس وقت ملک بھر میں 450 کمپنیوں کی 600 فیکٹریاں مختلف اقسام کی دوائیاں تیار کر رہی ہیں۔ ’گیٹز فارما‘ ملٹی نیشنل کمپنی ہے، جس کی پاکستان سمیت مختلف ممالک میں فیکٹریاں موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…