منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

وہ سنت نبوی جو آپ کو صحت مند بنادے

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

امریکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹھیک ہے رات کو آپ کی نیند نہیں ہوسکی تو دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونے سے گریز کیوں کرتے ہیں؟ دوپہر کو سونا یا قیلولہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور طبی سائنس بھی ثابت کرچکی ہے کہ کچھ دیر کی یہ نیند نہ صرف فوری طور پر طبیعت میں فرحت لاتی ہے بلکہ دیگر فوائد کا باعث بھی بنتی ہے۔ ایک امریکی طبی تحقیق میں قیلولے کے فوائد پر روشنی ڈالی گئی۔

کیلیفورنیا یونویرسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر چار بجے سے پہلے بیس سے 90 منٹ کی نیند کو عادت بنالینا صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔ یہ عادت نہ صرف دماغی کارکردگی بہتر بناتی ہے بلکہ وزن بڑھنے کے امکانات کو بھی کم کرتی ہے جبکہ اس سے رات کی نیند پر بھی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ تحقیق میں قیلولے کے درج ذیل فوائد بتائے گئے۔ قیلولے سے ملازمت کے حوالے سے ذہنی ہوشیاری سو فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ سوچنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے جس سے درست فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کام سے متعلق ذہنی و جسمانی افعال کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ دوپہر کی نیند عادت بنالینا جلدی خلیات کو دوبارہ بناکر عمر بڑھنے کے اثرات طاری نہیں ہونے دیتی یا یوں کہہ لیں بڑھاپا لمبے عرصے تک طاری نہیں ہوتا۔ یہ عادت میٹابولزم کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے کیمیکلز پر اثرات مرتب کرتی ہے جو اشتہا کا باعث بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسمانی وزن کم ہوتا ہے۔ قیلولے کی عادت ہارٹ اٹیک، فالج، دھڑکن کی بے ترتیبی، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر شریانوں کے مسائل کا خطرہ کم کرتی ہے۔ مزاج کو خوشگوار بناتی ہے۔ مختلف کاموں جیسے ٹائپنگ، مشینری استعمال کرنا یا تیراکی کی صلاحیت کو بہتر کرتی ہے۔ جسم کی کاربوہائیڈریٹس کو سنبھالنے کی صلاحیت بہتر کرتا ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ دوپہر کی نیند حسوں کو تیز کرتی ہے ۔

تاکہ آپ اپنے ارگرد اہم باتوں کو سمجھ سکیں۔ دماغ کی تخلیقی صلاحیت کو پر لگا دیتی ہے، جس سے نئے خیالات کو سامنے لانے میں مدد ملتی ہے۔ ایسے قدرتی عمل کو حرکت میں لاتی ہے جو ایسے ہارمونز کو بلاک کرتا ہے جو تناﺅ کا باعث بنتے ہیں۔ کچھ نیا سیکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور کچھ یاد کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔ کیفین یا الکحل جیسی عادتوں سے نجات دلانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ مجموعی طور پر قیلولہ صحت کو ہر طرح سے بہتر بناتا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…