منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

راتوں کی نیند اڑنے کی وجہ یہ عادت تو نہیں

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

کینیڈا(مانیٹرنگ ڈیسک) دن بھر میں صرف ایک گھنٹہ سوشل میڈیا کا استعمال ہی رات کی میٹھی نیند اڑانے کے لیے کافی ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ چلڈرنز ہاسپٹل ایسٹرن اونٹاریو ریسرچ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں جائزہ لیا گیا تھا کہ آج کے دور میں نوجوانوں کو سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کیوں ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں : نیند کی کمی سے ہونے والے 16 نقصانات نتائج سے معلوم ہوا کہ اس کی جڑ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ دن بھر میں ساٹح منٹ بھی واٹس ایپ، فیس بک یا کوئی اور سوشل میڈیا نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں، انہیں اس سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں نیند کے مسائل کا زیادہ سامنا ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ لوگ ان ایپس یا سائٹس کا استعمال کرتے ہیں، اتنی ہی ان کی نیند بھی کم ہوجاتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ لڑکیاں سوشل میڈیا کی زیادہ عادی ہوتی ہیں اور ان میں ہی نیند کی کمی کا مسئلہ سب سے زیادہ سامنے آتا ہے، تاہم لڑکے بھی کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔ یہ بھی پڑھیں : رات کو کتنی نیند صحت کے لیے ضروری ہے؟ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا بہت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، بچے اور نوجوان اس نئی ٹیکنالوجی کو زیادہ استعمال کرتے ہیں اور ان میں ایسی بری عادات پیدا ہوجاتی ہیں جو وہ درمیانی عمر تک اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیند کی کمی کا مسئلہ نوجوانوں میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بہت زیادہ سے ابھر کر سامنے آیا ہے، جس کی وجہ ڈیوائسز کی مصنوعی روشنی، کیفین کا استعمال، سونے کا کوئی مخصوص وقت نہ ہونا اور نئی ٹیکنالوجی تک رسائی میں اضافہ وغیرہ اس کے بنیادی عوامل ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایکٹا پیڈیاٹرکس میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…