منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا، خناق سے متاثرہ بچوں کیلئے دوا کے آخری چار وائلز بھی ختم، ہسپتالوں میں دوا نہ ہونے پر 11 بچوں کی اموات، مزید اموات کا خدشہ

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا محکمہ صحت کے پاس خناق مرض کے متاثرہ بچوں کے لیے دوا انٹی ڈیپ تھیریا سیرم کے آخری چار وائلز بھی ختم ہوگئے، صوبے کے ہسپتالوں میں خناق کی دوا نہ ہونے سے کئی متاثرہ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے، ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیمار بچوں کے والدین ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے چکر لگا رہے ہیں،

لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت بڑے تدریسی ہسپتالوں نے ایم ٹی آئی کا درجہ پانے کے باوجود اے ڈی سی دوا کی نہ خریداری کر سکی ہے اور نہ ہی کوئی انتظام کیا جا سکا ہے۔ اب تک صوبے میں 11 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے اس کے علاوہ جنوری 2017 ء سے اب تک گیارہ اضلاع سے 115 متاثرہ بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ متاثرہ بچے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہیں جن کی تعداد 47 ہے اس کے علاوہ صوابی میں 18 بچوں کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ خناق کے کیسز قبائلی علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں، یہ مرض قبائلی بچوں سے دوسرے اضلاع کے بچوں کو منتقل ہو رہا ہے، ای پی آئی پروگرام کے تحت صرف قبائلی علاقوں میں خناق کے متاثرہ بچوں کو اے ڈی سی دوا کے 1824 وائلز دیے گئے تھے لیکن خناق کے وبائی صورت اختیار کرنے پر کے پی کے حکومت کو مزید اے ڈی سی دوا منگوانا پڑی جو کہ اکتوبر میں 651 وائلز محکمے کو دیے گئے جو کہ گزشتہ روز ختم ہو گئے ہیں۔ اس وقت اینٹی ڈیپ تھیریا سیرم دوا ڈریپ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے تحت نہ تو رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی یہ دنیا میں ماسوائے روس اور انڈیا کے کوئی ادویہ ساز کمپنی اسے تیار کر رہی ہے، خصوصی آرڈر پر ہی یہ دوائی انڈیا یا روس سے منگوائی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…