پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا، خناق سے متاثرہ بچوں کیلئے دوا کے آخری چار وائلز بھی ختم، ہسپتالوں میں دوا نہ ہونے پر 11 بچوں کی اموات، مزید اموات کا خدشہ

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا محکمہ صحت کے پاس خناق مرض کے متاثرہ بچوں کے لیے دوا انٹی ڈیپ تھیریا سیرم کے آخری چار وائلز بھی ختم ہوگئے، صوبے کے ہسپتالوں میں خناق کی دوا نہ ہونے سے کئی متاثرہ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے، ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیمار بچوں کے والدین ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے چکر لگا رہے ہیں،

لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت بڑے تدریسی ہسپتالوں نے ایم ٹی آئی کا درجہ پانے کے باوجود اے ڈی سی دوا کی نہ خریداری کر سکی ہے اور نہ ہی کوئی انتظام کیا جا سکا ہے۔ اب تک صوبے میں 11 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے اس کے علاوہ جنوری 2017 ء سے اب تک گیارہ اضلاع سے 115 متاثرہ بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ متاثرہ بچے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہیں جن کی تعداد 47 ہے اس کے علاوہ صوابی میں 18 بچوں کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ خناق کے کیسز قبائلی علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں، یہ مرض قبائلی بچوں سے دوسرے اضلاع کے بچوں کو منتقل ہو رہا ہے، ای پی آئی پروگرام کے تحت صرف قبائلی علاقوں میں خناق کے متاثرہ بچوں کو اے ڈی سی دوا کے 1824 وائلز دیے گئے تھے لیکن خناق کے وبائی صورت اختیار کرنے پر کے پی کے حکومت کو مزید اے ڈی سی دوا منگوانا پڑی جو کہ اکتوبر میں 651 وائلز محکمے کو دیے گئے جو کہ گزشتہ روز ختم ہو گئے ہیں۔ اس وقت اینٹی ڈیپ تھیریا سیرم دوا ڈریپ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے تحت نہ تو رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی یہ دنیا میں ماسوائے روس اور انڈیا کے کوئی ادویہ ساز کمپنی اسے تیار کر رہی ہے، خصوصی آرڈر پر ہی یہ دوائی انڈیا یا روس سے منگوائی جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…