منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

شادی سے پہلے اب آپ کو یہ اہم ٹیسٹ کرانا پڑے گا ، اعلان کر دیا گیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )فرنٹیئرفاؤنڈیشن کے چیئرمین صاحبزادہ محمد حلیم نے کہا ہے کہ موروثی امراض میں مبتلا افراد کی خاندانوں میں شادیاں اور اس کے بعدبچوں کاتھیلی سیمیامیں مبتلاہونانہ صرف والدین کو نہ ختم ہونے والی پریشانیوں بلکہ معصوم بچوں کیلئے اذیت کاباعث ہیں،تھیلی سیمیا میں مبتلا افراد کی خاندانوں میں شادی سے قبل تھیلی سیمیا کا ٹیسٹ انتہائی ضروری ہے، ہمیں اپنے آج کے بجائے کل کاسوچنا ہوگا۔ وہ جمعرات کو فرنٹیئرفاؤنڈیشن پشاور سنٹر میں تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کے والدین سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس

موقع پر فرنٹیئرفاؤنڈیشن کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر فخر زمان، ڈائریکٹرپبلک ریلیشن فاروق مومنداور ڈائریکٹر پراجیکٹ لائبہ فیاض بھی موجودتھیں، انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اس وقت 1 لاکھ 20 ہزاربچے تھیلی سیمیامیجر کاشکار ہیں جس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اگر عوام میں شعور اجاگر ہوجائے تواس موروثی بیماری پربڑی حد تک قابو پایاجاسکتاہے،انہوں نے کہا ہے کہ ہم آئندہ نسل کو تھیلی سیمیا سے پاک معاشرہ دینے کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کارلارہے ہیں تاہم عوام اور میڈیا کے تعاون کے بغیر یہ اقدامات کارگرثابت نہیں ہوسکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…