بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

چولستان اور تھل سے ایسے جانور کا دودھ اکٹھا کرکے فروخت کرنے کی منظوری کہ جان کر آپ بھی خریدنے کیلئے دوڑ پڑیں گے

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)محکمہ لا ئیوسٹاک اور یو نیو رسٹی آ ف ویٹر نری اینڈ اینیمل سائنسز کے اشترا ک سے لاہور میں اونٹنی کے دودھ کی فروخت کا منصوبہ تیا ر کر لیا گیا جس کا با قاعدہ برا نڈ بنا یا جائے گا،پہلے مرحلے میں ایک لٹر کی پلاسٹک بوتل میں دودھ کی سپلائی لاہور کے بڑے سٹورز پر رواں ماہ شروع کی جائے گی جس کے بعد اسے صوبے بھر میں پھیلایا جائے گا۔اونٹ کے دودھ میں گائے یا بھینس کے مقابلے میں

زیادہ غذایئت ہوتی ہے اور یہ نسبتا گاڑھا بھی ہوتا ہے ، اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی مقدار تین گنا زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ فولاد ، فیٹی ایسڈز اور وٹامن بی سے بھرپور ہوتا ہے ، اونٹنی کا دودھ گائے کے دودھ سے اس لئے بھی بہتر ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی میں بھی موجود رہتا ہے کیونکہ اونٹ صحرا کا جانور ہے اور اشیائے خوردونوش اپنے جسم میں وافر مقدار میں جذب کر لیتا ہے ۔ ہالینڈ دنیا کا وہ پہلا یورپی ملک ہے جہاں پہلا کیمل فارم بنایا گیا ہے۔ دنیا میں کہیں تواونٹنی کے دودھ سے چاکلیٹس تیار کی جاتی ہیں تو کہیں پینربنایا جاتا ہےاورکہیں اس سے صابن بھی تیارہوتے ہیں ۔ لیکن یہ پنیر،عام پنیر اور دیگرڈیری مصنوعات کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے ، اوراسکا دودھ بھی کہیں تین سو ساٹھ اورکہیں چار سو روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے اسلئے بھی اپنے گراں ہونے کی وجہ سے کم استعمال ہوتا ہے ۔اونٹنی کے دودھ سے تیارکردہ آئس کریم کا ایک سکوپ چھے امریکی ڈالرز میں دستیاب ہوتا ہے ۔ سعودی عرب اور صومالیہ دنیا کے دو ایسے ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ اس دودھ کی پیداوار ہوتی ہے ۔ تاہم اب لاطینی امریکا ، ہالینڈ اور مشرق وسطی کے کئی ممالک میں بھی اسکی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس دودھ سے سالانہ دس بلین ڈالر کی آمدن ہوتی ہے ۔ اونٹ کا دودھ بیچنے والے اسکی غذایئت اور مفید

ہونے کے بارے میں بہت دعوی کرتے ہیں اور کئی رپورٹس سے یہ بات درست ثابت بھی ہوتی ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں یہ دودھ یرقان ، ٹی بی ، دمہ ، خون کی کمی ( انیمیا ) اور بواسیر کے علاج میں استعمال ہوتا رہا ہے ۔دنیا کے وہ خطے جہاں کی آبادی میں ذیابیطس زیادہ ہے وہاں اس دودھ کے بطور دوا استعمال سے بھی شوگر لیول میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ، پاکستان کے حوالے سے اگر ایک جائزہ لیا جائے تو کراچی میں دو ہزار تیرہ کے بعد سے اسکی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے ، یہ ہیلتھ سپلیمنٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…