منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

چولستان اور تھل سے ایسے جانور کا دودھ اکٹھا کرکے فروخت کرنے کی منظوری کہ جان کر آپ بھی خریدنے کیلئے دوڑ پڑیں گے

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)محکمہ لا ئیوسٹاک اور یو نیو رسٹی آ ف ویٹر نری اینڈ اینیمل سائنسز کے اشترا ک سے لاہور میں اونٹنی کے دودھ کی فروخت کا منصوبہ تیا ر کر لیا گیا جس کا با قاعدہ برا نڈ بنا یا جائے گا،پہلے مرحلے میں ایک لٹر کی پلاسٹک بوتل میں دودھ کی سپلائی لاہور کے بڑے سٹورز پر رواں ماہ شروع کی جائے گی جس کے بعد اسے صوبے بھر میں پھیلایا جائے گا۔اونٹ کے دودھ میں گائے یا بھینس کے مقابلے میں

زیادہ غذایئت ہوتی ہے اور یہ نسبتا گاڑھا بھی ہوتا ہے ، اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کی ایک رپورٹ کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی مقدار تین گنا زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ فولاد ، فیٹی ایسڈز اور وٹامن بی سے بھرپور ہوتا ہے ، اونٹنی کا دودھ گائے کے دودھ سے اس لئے بھی بہتر ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی میں بھی موجود رہتا ہے کیونکہ اونٹ صحرا کا جانور ہے اور اشیائے خوردونوش اپنے جسم میں وافر مقدار میں جذب کر لیتا ہے ۔ ہالینڈ دنیا کا وہ پہلا یورپی ملک ہے جہاں پہلا کیمل فارم بنایا گیا ہے۔ دنیا میں کہیں تواونٹنی کے دودھ سے چاکلیٹس تیار کی جاتی ہیں تو کہیں پینربنایا جاتا ہےاورکہیں اس سے صابن بھی تیارہوتے ہیں ۔ لیکن یہ پنیر،عام پنیر اور دیگرڈیری مصنوعات کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے ، اوراسکا دودھ بھی کہیں تین سو ساٹھ اورکہیں چار سو روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے اسلئے بھی اپنے گراں ہونے کی وجہ سے کم استعمال ہوتا ہے ۔اونٹنی کے دودھ سے تیارکردہ آئس کریم کا ایک سکوپ چھے امریکی ڈالرز میں دستیاب ہوتا ہے ۔ سعودی عرب اور صومالیہ دنیا کے دو ایسے ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ اس دودھ کی پیداوار ہوتی ہے ۔ تاہم اب لاطینی امریکا ، ہالینڈ اور مشرق وسطی کے کئی ممالک میں بھی اسکی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس دودھ سے سالانہ دس بلین ڈالر کی آمدن ہوتی ہے ۔ اونٹ کا دودھ بیچنے والے اسکی غذایئت اور مفید

ہونے کے بارے میں بہت دعوی کرتے ہیں اور کئی رپورٹس سے یہ بات درست ثابت بھی ہوتی ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں یہ دودھ یرقان ، ٹی بی ، دمہ ، خون کی کمی ( انیمیا ) اور بواسیر کے علاج میں استعمال ہوتا رہا ہے ۔دنیا کے وہ خطے جہاں کی آبادی میں ذیابیطس زیادہ ہے وہاں اس دودھ کے بطور دوا استعمال سے بھی شوگر لیول میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ، پاکستان کے حوالے سے اگر ایک جائزہ لیا جائے تو کراچی میں دو ہزار تیرہ کے بعد سے اسکی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے ، یہ ہیلتھ سپلیمنٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…