منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے بڑے پیمانے پر انسانوں کیلئے کیا مصنوعی چیز تیار کر لی ؟ جان کر دنگ رہ جائیں گے

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

لندن(آن لائن)سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انھوں نے تجربہ گاہ میں بڑے پیمانے پر خون کے سرخ خلیے تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس طریقے سے بنائے جانے والے خون کو عطیہ کیا جا سکتا ہے۔ سرخ خلیے اب بھی تجربہ گاہ میں تیار کیے جا سکتے ہیں ،لیکن مسئلہ ان کی مقدار کا ہے۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل اور قومی ادارہ صحت

این ایچ ایس کے سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ وضع کیا ہے جس کی مدد سے غیرمحدود مقدار میں خون تیار کیا جا سکتا ہے۔پرانی تکنیک کے تحت ایک خاص قسم کے سٹیم سیل حاصل کیے جاتے تھے جو سرخ خلیے بناتے ہیں اور پھر ان کی مدد سے تجربہ گاہ میں خون تیار کیا جاتا تھا۔تاہم ہر سٹیم سیل صرف 50 ہزار سرخ خلیے بنانے کے بعد ٹھپ ہو جاتا تھا۔ یاد رہے کہ خون کے صرف ایک ملی لیٹر میں 50 لاکھ کے قریب، جب کہ خون کی ایک تھیلی میں تقریباً دس کھرب سرخ خلیے ہوتے ہیں۔اب برسٹل یونیورسٹی کی ٹیم نے سٹیم سیل کو ایک ایسے مرحلے میں استعمال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جب وہ لامتناہی مقدار میں سرخ خلیے تیار کر سکتے ہیں۔ایک تحقیق کار ڈاکٹر جان فرین نے کہا: ‘ہم نے ہسپتال میں استعمال کے لیے سرخ خلیے بنانے کا قابلِ عمل وضع کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ہم نے اس کی مدد سے لیٹروں کے حساب سے خون تیار کیا ہے۔’تاہم ابھی اس تحقیق میں بہت کچھ کیا

جانا باقی ہے۔سائنس دان خون تیار کر سکتے ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ایک اور تحقیق کار پروفیسر ڈیوڈ اینسٹی نے بی بی سی کو بتایا: ‘بایوانجینیئرنگ کا معاملہ ابھی حل طلب ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر خون تیار کرنا آسان نہیں، اور ہماری تحقیق

کا اگلا مرحلہ پیداوار کو توسیع دینا ہے۔‘ایک اور مسئلہ بڑے پیمانے پر تیار کردہ خون کی قیمت کا بھی ہے۔اس ٹیکنالوجی کے فوائد ظاہر ہیں۔ بعض اوقات نایاب خون کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔ پروفیسر اینسٹی کہتے ہیں: ‘اس ٹیکنالوجی کا پہلا استعمال نایاب اقسام کے خون پر ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…