ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

دہی کے استعمال کے ایسے فوائد جو آپ کوآج تک معلوم نہیں ہونگے

datetime 13  مارچ‬‮  2017 |

ورجینیا(آن لائن)تحقیق سے ثابت ہوا ہیکہ دہی میں نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کا استعمال ڈپریشن دور میں کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ تازہ دہی میں موجود بیکٹیریا ’’لیکٹوبیکیلس‘‘ نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہوتے ہیں بلکہ جب وہ ڈپریشن کے شکار چوہوں کے پیٹ میں ڈالے گئے تو

ان کی آنت میں بیکٹیریا کی تعداد بڑھی اور اس سے ان کی ڈپریشن دورہوگئی۔ اس تحقیق کی بناء پر یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن نکے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چوہوں پر کیے گئے تجربات انسانوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔تحقیق کے مرکزی محقق کا کہنا ہیکہ ڈپریشن کی دوائیں مہنگی اور سائیڈ افیکٹس سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ دہی میں موجود خردنامیوں کو استعمال کرکے اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی عادات بدل کر ہم جادوئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں، جسم میں بیکٹیریا کی آبادی اور اقسام میں توازن سے صحت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق تحقیق اور کئی مطالعات سے ثابت ہوچکا ہیکہ دہی میں موجود پروبایوٹکس جن مفید بیکٹیریا میں اضافہ کرتے ہیں وہ ذہنی تناؤ، الجھن اور ڈپریشن کو دور کرسکتے ہیں۔ماہرین نے علاج سے پہلے اور بعد میں چوہوں کے اندر موجود لیکٹوبیکیلس کی مقدار اور ان میں ڈپریشن کی شدت کو نوٹ کیا۔ جیسے ہی چوہوں میں خاص بیکٹیریا کم ہوئے ان میں ڈپریشن جیسے آثار نمودار ہونے لگے، جب بیکٹیریا کی تعداد بڑھائی گئی تو وہ دوبارہ نارمل ہونے لگے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہوسکتی ہے کہ یہ بیکٹیریا خون کے ایک عنصر کائنو یورینائن کی مقدار کم یا زیادہ کرتا ہے اور اس کیمیکل کی وجہ سے دماغ میں اداسی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ یعنی بیکٹیریا کم ہونے سے کائنو

یورینائن بڑھتے ہیں اور ڈپریشن کی وجہ بنتے ہیں۔اس تحقیق پر دیگر ماہرین کاخیال ہے کہ انسان بہت پیچیدہ ہے اور شاید چوہوں کا ماڈل انسانوں پر کارآمد ثابت نہ ہوسکے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…