منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

اب کسی کی محتاجی کی ضرورت نہیں،فالج کے مریضوں کیلئے خوشخبری آگئی

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فالج کا مرض جان لیوا تو نہیں لیکن انتہائی اذیت ناک ضرور ہے ،فالج کا مریض ہر پل ہر ضرورت کیلئے دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے لیکن اب پریشان ہونیکیضرورت نہیں کیونکہ فالج کے مریضوں کیلئے خوشخبری ،اب وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے۔سائنسدانوں کی تیار کردہ نئی ڈیوائس سے فالج کے مریض اپنی مشکل پر قابوپاسکیں گے۔ ماہرین نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈیوائس کو 2 بندروں میں استعمال کیا گیا،جنہوں نے اسے اپنے فالج زدہ پیروں کے لئے کامیابی سے استعمال کیا۔

دماغ سے کنٹرول ہونے والی یہ ڈیوائس ایک بین الاقوامی ٹیم نے تیار کی اور امید ہے کہ انسانوں کے استعمال کے لئے جلد ہی اس کا تجربہ کیا جائے گا۔عالمی ٹیم کے ایک رکن کا کہناہے کہ پہلی مرتبہ ہم اس بات کا تصور کر سکتے ہیں کہ مکمل طور پر فالج زدہ انسان دماغ سے چلنے والی اس ڈیوائس کے ذریعے اپنی ٹانگیں استعمال کر سکے گا۔ یہ ڈیوائس دماغ سے ملنے والے سگنل کو ڈی کوڈ کرکے پیر چلانے میں مدد کرے گی۔ یہ ڈیوائس سوئٹزر لینڈ میں تیار کی گئی ہے اور اس کے اہم اجزا کی تیاری میں امریکی یونیورسٹی اور جرمنی کی ایک کمپنی نے حصہ لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…