منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کریمیں استعمال کرنے والے ہو جائیں ہوشیار !ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی ہونٹ خشک اورپھٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ہونٹوں کی خوبصورتی کیلئے نئے طریقے آزماتے ہیں اورلیکن ماہرین نے ایسے افراد کوخبردار کیا ہے کہ سرد و خشک موسم میں ہونٹوں کو نرم اور نم رکھنے والی کریموں سے جلن بھی پیدا ہوسکتی ہے۔اگرچہ اس طرح کی کریمیں، پیٹرولیم جیلی، لپ بام اور چیپ اسٹک لگانے سے ہونٹوں

کی قدرتی نمی محفوظ رہتی ہے اور ہونٹ موسمی اثرات سے محفوظ بھی رہتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو ہونٹوں میں جلن اور چبھن کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔ماہرین نے ان کریموں وغیرہ میں شامل ایسے تین اجزاء کی بطورخاص نشاندہی کی ہے جو ہونٹوں میں جلن پیدا کرسکتے ہیں۔
مصنوعی خوشبو:
لپ بام اور چیپ اسٹک میں خوشبو کی غرض سے کچھ مصنوعی مرکبات شامل کئے جاتے ہیں مگر کچھ لوگوں کو ان سے الرجی بھی ہوتی ہے۔ ایسے ہی مرکبات کی ایک قسم ’’سنامیٹس‘‘ کہلاتی ہے جو دارچینی سے تعلق رکھتے ہیں اور جنہیں اپنی خوشبو اور دھوپ سے بچانے والی خصوصیات کی بناء پر شامل کیا جاتا ہے لیکن مختلف سائنسی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ ہونٹوں میں جلن پیدا کرنے کے معاملے میں ان ہی سنامیٹس کا سب سے زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔
فینول یا مینتھول:
ٹھنڈک اور پودینے جیسی خوشبو کا احساس پیدا کرنیوالے مرکبات سے حاصل ہونیوالا سکون صرف وقتی ہوتا ہے۔ماہریننے خبردار کیا ہے کہ ایسی لپ بام/ چیپ اسٹک استعمال نہ کی جائے جس میں فینول یا مینتھول شامل ہوں کیونکہ ان سے صرف جلن ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ انہیں مسلسل استعمال کرنے کے نتیجے میں ہونٹ زیادہ حساس بھی ہوسکتے ہیں اور دوسری چیزوں سے زیادہ جلدی متاثر بھی ہوسکتے ہیں۔
وٹامن ای:
اگرچہ اسکے بارے میں ماہرین 2 متضاد آراء کا شکار ہیں کیونکہ وٹامن ’ای‘ کے استعمال پر طویل عرصے تک کیے گئے ایک مطالعے میں اس سے ہونٹوں پر الرجی کے واقعات بہت کم دیکھنے میں آئے لیکن پھر بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی تمام کریمیں یا لپ بام/ چیپ اسٹک استعمال کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے جن میں مصنوعی ذرائع سے حاصل کردہ وٹامن ای شامل ہو۔ ان کے برعکس شہد کی مکھی کے چھتے سے حاصل کیا گیا موم بہتر ہے کیونکہ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی جو ہونٹوں میں جلن، چبھن یا الرجی کا باعث بنے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…