منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

مشرومز کی بے شمار خوبیاں،بزرگ حضرات کیلئے خوشخبری کی خبر آگئی

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مشروم دنیا بھر میں بہت شوق سے کھائے جاتے ہیں اور ان میں بے شمارخوبیاں موجودہے لیکن اب ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشرومز انسانی دماغ کو مختلف امراض کا شکار ہونے سے روکتی ہیں جن میں الزائیمر اور نسیان (ڈینمنشیا) سرِفہرست ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہہم نے بہت سے کھائے جانے والے مشرومز میں حیاتیاتی اجزا کا جائزہ لیا جو ایک جانب تو دماغ کی حفاظت کرتے ہیں اور دوسری جانب ذہنی کارکردگی کو بڑھاتے ہیں۔ہم نے دیکھا کہ کئی مشرومز میں نرو گروتھ فیکٹر (این جی ایف) ہوتا ہے۔ یہ کئی اقسام کے دماغی خلیات (سیلز) کو بڑھاتا، تقویت دیتا اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔ تجربات کے دوران معلوم ہوا کہ مشروم احساس اور حرکت، دونوں سے متعلق خلیات پر بہت اچھا اثر ڈالتی ہیں اور اس لحاظ سے مشروم بڑھاپے میں پیدا ہونیوالے مرض ڈیمنشیا اور الزائیمر کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ماہرین نے مزیدکہنا کہ مشرومز میں پائے جانیوالے کئی اہم اجزا دماغی اعصاب کو بڑھنے میں مدد دیتی ہیں اور دماغ میں زہریلا مواد بننے سے روکتی ہیں جو سوزش اور دیگر خطرناک بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔ مشرومز الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسے امراض کو دور رکھتی ہیں جو بزرگ خواتین و حضرات پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…