منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

چاکلیٹ کھانے سےآپ کونسی خطرناک بیماری سے محفوظ رہتے ہیں ؟ جان کر حیران رہ جائینگے

datetime 9  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ویسے تو سننے میں عجیب لگے مگر چاکلیٹ اور پنیر کو کھانا عادت بنالینا جسمانی وزن میں کمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔کنگز کالج لندن کی تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں کمی کے لیے کوششوں میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ معدے میں موجود بیکٹریا کو نظر انداز کرنا ہے۔محققین کے مطابق معدے میں کافی مقدار میں بیکٹریا موجود ہوتے ہیں اور وہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین ہیں۔

 

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر کو کوئی شخص موٹاپے کی روک تھام کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی غذائی مینیو میں چاکلیٹ، کافی اور پنیر کو شامل کرلینا چاہئے۔محققین کے مطابق ہر شخص کے معدے میں بیکٹریا مختلف ہوسکتے ہیں جو ہمارے جسموں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اس لیے طویل المعیاد بنیادوں پر غذائی کنٹرول کے ذریعے موٹاپے سے بچنے کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔محققین کے مطابق ڈائیٹنگ، کاربوہائیڈریٹس، چربی یا سبزیوں تک محدود ہوجانا جسمانی وزن میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ کھانے میں تنوع نہ ہونے کے باعث معدے میں بیکٹریا کے تنوع میں کمی آنا ہے۔تحقیق کے مطابق صحت مند اور جسمانی وزن کنٹرول رکھنے کے لیے ایسی غذائوں کو اپنائیں جو معدے کے اچھے بیکٹریا کی تعداد بڑھائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…