پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

ناخن چبانے کی ایسی وجوہات سامنے آگئیں ،جان کر آپ حیران ہو جائیں گے

datetime 8  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آپ نے دیکھا ہوگا کہ متعدد افرادکو ناخن چبانے کی عادی ہوتیہے اور اس کو اچھی عادت نہیں سمجھا جاتا ہے ۔سماجی اور ممکنہ طبی نقصانات سے قطع نظر دنیا بھر میں 30فیصد افراد اس عادت کا شکار ہوتے ہیں ۔پہلے تو یہ جانیں کہ لوگ اپنے ناخن کیوں چباتے ہیں ۔
اچھا لگتا ہے:
تحقیق کے مطابق جب کوئی شخص ناخن چباتا ہے تو اسے سکون محسوس ہوتا ہے کیونکہ لاشعوری طور پر لوگوں کو اس سے لطف ملتا ہے خاص طور پر تناؤ حالات میں اعصاب پر سکون ہوتے ہیں یا مشکل کاموں کے دوران پر سکون رہنے میں مد د ملتی ہے۔
مثالیت پسند :
سکون کے خیال کیساتھ یہ بات تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ ایسا کرنے والے افراد مثالیت پسند اور وہ بہت جلد چڑچڑے یا غصہ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایسی حالت میں ناخن چباتے ہیں۔
جینیاتی رغبت:
تحقیق کے مطابق عادت کا تعلق خاندانی تاریخ سے ہوتا ہے،اس عادت کے شکار ایک تہائی افراد ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کے افراد ناخنوں کو چبانے کے عادی رہے ہوتے ہیں۔
انفیکشن پھیلنا :
انسانی ہاتھوں میں ہر گھنٹے لاکھوں جراثیم گھر بناتے ہیں کیونکہ دن بھر ہم لوگ مختلف چیزوں کی سطح کو چھوتے ہیں جس سے وہ جراثیم ہاتھوں تک پہنچ جاتے ہیں اور جب آپ وہ جراثیم والے ہاتھ منہ میں ڈالتے ہیں تویہ جراثیم منہ میں چلے جاتے ہیں اور انفیکشن کا باعث بنتے ہیں ۔
نقصان دہ عادت:
ناخن چبانا اچھیعادت ہے یا بری یہ الگ بات ہے لیکن ناخن چبانے سے آپ کے دانت اور جبڑے ضرور متاثر ہوتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…