پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

سردیوں کا خاص تحفہ، فوائد ایسے کہ جان کر حیران رہ جائیں گے

datetime 17  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)ویسے تو سبھی سبزیاں اپنے اندر طاقت کے خزانے لیے ہوئے ہیں لیکن ان میں جڑوں والی سبزیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں جس میں گاجر کو اپنی افادیت اور اعلیٰ خوبیوں کی وجہ سے منفرد مقام حاصل ہے اسی لیے دینا بھر میں گاجر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے 4 اپریل کو عالمی گاجر ڈے منایا جاتا ہے جب کہ اس سے بنی ہوئی لذیذ ڈشز دنیا کے ہر کونے میں پسند کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 100 قسم کی گاجر پائی جاتی ہے جو اپنے سائز اور ذائقے کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم جامنی رنگ کی گاجر کو قدرتی طور پرحقیقی گاجر تسلیم کیا جاتا ہے تاہم 17 ویں صدی میں اورنج رنگ کی گاجر بھی مارکیٹ کا حصہ بن گئی، بہرحال گاجر کسی بھی قسم کی ہو اس کی چند ڈشز دنیا بھر میں مقبول ہیں جو نہ صرف ذائقے اپنے ذائقے کی وجہ سے مقبول ہیں بلکہ اپنے اندر صحت کی بھر پور خوبیاں بھی موجود ہیں۔
گاجر کی خاص خوبی: گاجر کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ جب اسے پکایا یا پھر گرائنڈ کیا جائے یا پھراس کا جوس نکالا جائے اس میں موجود پروٹین اور بھی بڑھ جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس میں موجود کیروٹی نائڈز میں 600 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ گاجر کو جب تیل میں پکایا جاتا ہے تو اس کی صلاحیتوں میں 39 فیصد بہتری ا?جاتی ہے۔ اکثر لوگ گاجر کو پریشر ککر میں پکانے کے لیے پیاز اور ہری مرچ کے ساتھ پکاتے ہیں اور کچھ لوگ کڑی پتے اور مٹر کے ساتھ اسے کھانے کی زینت بناتے ہیں۔
گاجر کا حلوہ:
برصغیر پاک و ہند میں یہ ایک مقبول ترین میٹھی ڈش ہے بلکہ اکثر بالی ووڈ فلموں میں تقریبات کے دوران ماو¿ں کا اپنے بچوں کے لیے گاجر کا حلوہ بناتے اور کھاتے دکھایا جاتا ہے۔ گاجر کے حلوے کو بنانے کے لیے اسے کدو کش کرکے اور اس میں دودھ اور خشک میوہ جات ڈال کر انتہائی ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے جب کہ جو لوگ کم کلوریز چاہتے ہیں تو وہ اس میں میوہ جات اور گھی کا استعمال کم کریں۔
گاجر سے بنے کیک:
گاجر کے کیک درحقیقت برطانوی ڈش ہے جسے 19 ویں صدی میں متعارف کرایا گیا جب چینی اور دیگر سویٹ ڈشز کم ہی دسیتاب ہوتی تھیں۔ لوگ کیک کو فلیور دینے کے لیے میٹھی سبزیاں بالخصوص گاجر کا استعمال کرتے تھے جس کے بعد گاجر کیک مقبول ہوتے چلے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 3 فروری کو دنیا بھر میں گاجر کیک کے نام سے منایا جاتا ہے جب کہ یہ کیک اپنی نرمی اور ذائقے کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔ اب گاجر کپ کیک بھی بازاروں میں دستیاب ہیں جب کہ اس کے علاوہ شوگر کے مریضوں کے لیے بھی گاجر کیک انتہائی مفید ہیں۔
فرانس، سویڈن، اٹلی، جاپان اور روس میں 2003 سے شروع ہونے والے گاجر ڈے کو اب دنیا بھر میں منایا جانے لگا ہے اور لوگ اس کی افادیت کو تسلیم کر چکے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…