لندن (نیوز ڈیسک)ہم میں سے بیشتر افراد کھانے کو زیادہ ذائقہ دار بنانے کے لیے نمک کی مقدار میں اضافہ کردیتے ہیں مگر یہ عادت مختلف جان لیوا امراض کا باعث بن سکتی ہے۔یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی تحقیق کے مطابق نمک کی روزانہ 6 گرام مقدار کا استعمال صحت کے لیے مناسب ہے تاہم اس سے زیادہ کھانا مختلف امراض کا باعث بن سکتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ باہر کی غذاؤں میں نمک کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے خاص طور پر جنک فوڈز میں تو اس کی مقدار محفوظ قرار دی گئی مقدار سے زیادہ ہوتی ہے۔زیادہ نمک کے استعمال کے نتیجے میں بلڈ پریشر، فالج، امراض قلب، گردوں کے امراض و پتھری، موٹاپے، ہڈیوں کی کمزور، معدے کے کینسر اور پیٹ پھولنے جیسے امراض کا سامنا ہوسکتا ہے۔ایک پرانی تحقیق کے مطابق یہ ذیابیطس کی علامات کو بھی بڑھا کر اس جان لیوا مرض کا شکار بنادیتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہت زیادہ نمک قبل از وقت موت کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ بلڈ پریشر کو بڑھا کر فالج اور ہارٹ اٹیک جیسے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔اب اس حوالے سے پاکستان میں کیا صورتحال ہے اس بارے میں کہنا مشکل ہے کیونکہ یہ تحقیق برطانوی عوام پر ہوئی تاہم یہ تو واضح ہے کہ یہاں بھی اوسطاً نمک کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
مکہ کی مسجد کے اندر غیر اخلاقی حرکت کرنے پرایک بنگلادیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
’’شیطان مر گیا‘‘: نانا پاٹیکر کے بیٹے کا تنوشری دتہ کے متنازع بیان پر ردعمل آگیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
ای پاسپورٹ کا اجرا ! پرانے پاسپورٹ رکھنے والے کیا کریں گے؟
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
لندن میں دو نقاب پوشوں نے نواز شریف کی گاڑی کے شیشے توڑدیے
-
پاکستان کے کن شہروں میں بارش ہوگی؟ اہم پیش گوئی جاری
-
کھلے مصالحہ جات کی فروخت پر پابندی عائد، نیا نوٹیفیکیشن جاری



















































