جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

اب کھانے پینے کی اشیا میں موجود شکر کی مقدار جا ننا آسان، ایپ متعارف کرا دی گئی

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

لندن(نیوز ڈیسک)برطانیہ میں والدین کو اپنے موبائل فون میں ایک مفت ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دی جارہی جس کے ذریعے وہ بازار میں دستیاب کھانے پینے کی اشیا میں موجود شکر کی مقدار جان سکتے ہیں۔انگلینڈ پبلک ہیلتھ کی جانب سے متعارف کروائی گئی اس ایپ کو’شوگر سمارٹ ایپ‘ کا نام دیا گیا ہے، جو غذائی اشیا کی پیکنگ پر موجود بار کوڈ کو سکین کرنے کے بعد اس میں موجود شکر کی کل مقدار کو کیوبز یا گرام میں بتا دیتی ہے۔ادارے کے حکام کو امید ہے کہ اس ایپ کے ذریعے لوگوں میں صحت مند غذاؤں کے استعمال کا رجحان بڑھے گا اور وہ دانتوں کی بیماریوں، موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا مقابلہ کرسکیں گے۔یہ ایپ ادارے کی نئی تشہیری مہم جینج فور لائف کا حصہ ہے۔اس مہم کے ذریعے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چھوٹی عمر کے بچے اپنی غذاؤں میں حد سے تین گنا زیادہ شکر استعمال کررہے ہیں۔مہم میں بتایا گیا ہیکہ چار سے دس سال کی عمر کے بچے ہر سال اوسطاً 22 کلو گرام زائد شکر کھا جاتے ہیں۔اس زائد شکر کا وزن 5500 کیوبز بنتا ہے جو ایک پانچ سالہ بچیکے اوسط وزن سے بھی زیادہ ہے۔اس ایپ کا مقصد لوگوں میں آگہی پیدا کرنا ہے کہ ان کی روزمرہ کی غذا میں کتنی شکر موجود ہے۔یہ ایپ ملک میں دستیاب 75 ہزار سے زیادہ مصنوعات پر کام کرتی ہے جس سے والدین ان مصنوعات کو خریدنے سے قبل ہی ان میں موجود شکر کی مقدار کا اندازہ لگا کر یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان کو خریدنا ان کے بچوں کی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہوسکتاہے۔یہ ایپ ملک میں دستیاب 75 ہزار سے زیادہ مصنوعات پر کام کرتی ہے جس سے والدین ان مصنوعات کو خریدنے سے قبل ہی ان میں موجود شکر کی مقدار کا اندازہ لگا کر یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان کو خریدنا ان کے بچوں کی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہوسکتاہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی چیف غذائی ماہر ڈاکٹر ایلیسن ٹیڈ سٹون کا کہنا ہے کہ بچے اپنی غذاؤں میں شکر کا بہت زیادہ استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان میں دانت سڑنے، وزن بڑھنیاور آگے جاکر کئی مزید خطرناک بیماریوں کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔زائد وزن اور موٹاپے کا شکار بالغ افراد میں دل کی پیماریوں، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور کئی قسم کے سرطان پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر ایلیسن کا کہنا ہے کہ وہ ایک اقدام جس پر میں والدین کی بھرپور حوصلہ افزائی کروں گی، وہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی غذاؤں میں چینی سے بھرپور مشروبات کو کم چینی والے مشروبات، پانی یا پھر کم چکنائی والے دودھ سے تبدیل کردیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس ایپ کے ذریعے لوگوں کو یہ جان کر شاید حیرت ہوگی کچھ برانڈ کے دہی اور پھلوں کے مشروبات میں بھی شکر موجود ہوتی ہے۔شوگر سمارٹ ایپ کو ایپ سٹور کے ذریعے موبائل میں با آسانی ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…