پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

اینٹی بیکٹیریل صابن سے جراثیم نہیں مرتے

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) عام طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ اینٹی بیکٹیریل صابن انسانی جسم پر موجود جراثیموں کو مارنے اور ان کی افزائش کو روکنے میں انتہائی کارآمد اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اینٹی بیکٹیریل صابن استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ایسے صابنوں کی صرف امریکا میں فروخت قریبا ایک ارب ڈالرز کی ہے۔ لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے اینٹی بیکٹیریل صابن بنانے والی کمپنیوں کے دعوئوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جراثیم کش (اینٹی بیکٹیریل) صابن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کیمیائی مادہ ٹرائکلوزن ہے جس کی وجہ سے کچھ پیچیدگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہاتھ چاہے اس اینٹی بیکٹریل صابن سے دھوئے جائیں یا عام صابن سے، جراثیموں کے حوالے سے کوئی بڑا فرق نہیں دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق کیمیائی مادہ ٹرائکلوزن صرف اس وقت کارگر ہوتا ہے اگر یہ جراثیم 9 گھنٹوں تک اس میں ڈبو دیے جائیں جو ظاہر ہے کسی شخص کے لئے ممکن نہیں ہے۔
اپنی تحقیق کو سچ ثابت کرنے کیلئے طبی ماہرین نے خطرناک جراثیموں کو عام صابن اور جراثیم صابن کے محلولوں میں رکھا۔ اس تحقیق میں جراثیموں کو مختلف افراد کے ہاتھوں پر بھی لگایا گیا اور ان میں سے کچھ کو ایک ہفتے تک اینٹی بیکٹیریل صابن سے جبکہ کچھ کے عام صابن سے ہاتھ دھلوائے گئے۔ ان تجربات کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ عام صابن اور جراثیم کیش (اینٹی بیکٹیریل) صابن جراثیموں کے خاتمے کے اعتبار سے کسی بڑے فرق کے حامل نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق اینٹی بیکٹریل صابن صرف اس وقت کارگر دیکھے گئے ہیں۔ امریکا کا محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) اس کے استعمال پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔

مزید پڑھئے:نادرا نے ریکارڈ قائم کردیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…