جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

اینٹی بیکٹیریل صابن سے جراثیم نہیں مرتے

datetime 16  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) عام طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ اینٹی بیکٹیریل صابن انسانی جسم پر موجود جراثیموں کو مارنے اور ان کی افزائش کو روکنے میں انتہائی کارآمد اور مفید ثابت ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اینٹی بیکٹیریل صابن استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ایسے صابنوں کی صرف امریکا میں فروخت قریبا ایک ارب ڈالرز کی ہے۔ لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے اینٹی بیکٹیریل صابن بنانے والی کمپنیوں کے دعوئوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جراثیم کش (اینٹی بیکٹیریل) صابن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا کیمیائی مادہ ٹرائکلوزن ہے جس کی وجہ سے کچھ پیچیدگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہاتھ چاہے اس اینٹی بیکٹریل صابن سے دھوئے جائیں یا عام صابن سے، جراثیموں کے حوالے سے کوئی بڑا فرق نہیں دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق کیمیائی مادہ ٹرائکلوزن صرف اس وقت کارگر ہوتا ہے اگر یہ جراثیم 9 گھنٹوں تک اس میں ڈبو دیے جائیں جو ظاہر ہے کسی شخص کے لئے ممکن نہیں ہے۔
اپنی تحقیق کو سچ ثابت کرنے کیلئے طبی ماہرین نے خطرناک جراثیموں کو عام صابن اور جراثیم صابن کے محلولوں میں رکھا۔ اس تحقیق میں جراثیموں کو مختلف افراد کے ہاتھوں پر بھی لگایا گیا اور ان میں سے کچھ کو ایک ہفتے تک اینٹی بیکٹیریل صابن سے جبکہ کچھ کے عام صابن سے ہاتھ دھلوائے گئے۔ ان تجربات کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ عام صابن اور جراثیم کیش (اینٹی بیکٹیریل) صابن جراثیموں کے خاتمے کے اعتبار سے کسی بڑے فرق کے حامل نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق اینٹی بیکٹریل صابن صرف اس وقت کارگر دیکھے گئے ہیں۔ امریکا کا محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) اس کے استعمال پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔

مزید پڑھئے:نادرا نے ریکارڈ قائم کردیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…