اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عجیب و غریب لینس تیار کرنے کا دعویٰ جس سے بصارت تین گنا زیادہ

datetime 26  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر گارتھ ویب نے طویل عرصے کی محنت اور کوشش کے بعد ایک ایسے عجیب و غریب لینس تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس سے صحت مند اور مکمل درست بصارت رکھنے والے فرد کی دیکھنے کی صلاحیت بھی تین گنا تک بڑھائی جاسکے گی۔ ڈاکٹر گارتھ آکیومیٹکس ٹیکنالوجی کارپوریشن کے بانی ہیں اور ان کی کمپنی کا یہی عزم ہے کہ وہ دنیا سے لینس اور چشموں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کرسکیں۔ اس کیلئے ڈاکٹر گارتھ اور ان کے ساتھیوں کی ٹیم نے آٹھ برس کی طویل محنت کی۔ اس دوران ان کی تحقیق پر 30 لاکھ ڈالر خرچہ بھی آیا جس کے بعد آخر کار ڈاکٹر گارتھ اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ آکیومیٹکس بائیونک لینس دیکھنے میں ایک چھوٹے بٹن کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ اس لینس کو آٹھ منٹ کے ایک چھوٹے سے آپریشن سے آنکھ میں فٹ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گارتھ کے مطابق یہ سارا عمل بنا کسی درد کے مکمل ہوتا ہے۔یہ سرجری بالکل اس سرجری سے ملتی جلتی ہوتی ہے جس میں قدرتی لینس کی جگہ مصنوعی لینس فٹ کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کے آسان ہونے کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کیلئے ہسپتال میں داخلے، رات گزارنے یا پھر اینستھیسیا کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
بائیونک لینس ٹاکو شیلز کی مانند موڑ کے دوہرا کیا جاتا ہے اور سیلائن سلوشن سے بھری سرنج کی مدد سے آنکھ میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دس سیکنڈز میں یہ بائیونک لینس آنکھ میں اپنی جگہ فٹ ہوجاتا ہے اور بصارت تیز ہوجاتی ہے۔ اس لینس کو لگانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ آج صرف دس فٹ کی دوری پر موجود گھڑی کو دیکھ سکتے ہیں تو بائیونک لینس لگنے کے بعد آپ تیس فٹ کے فاصلے پر موجود گھڑی کو بھی آسانی سے دیکھ سکیں گے۔ ڈاکٹر گارتھ نے اس لینس کی ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ سو فیصد محفوظ اجزا سے تیار کیا گیا ہے اور آنکھ کے اندر کسی قسم کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اس سے آنکھ میں موتیا کا مرض نہیں ہوسکے گا کیونکہ موتیا قدرت لینس کو تو تباہ کرسکتا ہے تاہم مصنوعی لینس کو نہیں۔ علاوہ ازیں یہ لیزر سرجری کی نسبت بھی محفوظ ہے کیونکہ لیزر ٹریٹمنٹ میں قورنیہ کے ٹشو کو جلایا جاتا ہے جبکہ رات کے وقت ڈرائیونگ بھی نگاہ دھندلانے کی وجہ سے ممکن نہیں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر گارتھ کا دعویٰ ہے کہ وہ موتیا کے حوالے سے گزشتہ ماہ ہونے والی ایک کانفرنس میں اپنی دریافت دکھا چکے ہیں اور اسے بے حد پسند کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…