لندن امریکی ماہرین کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی کے باعث صرف امریکا میں ہر سال 54 لاکھ افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بین الاقوامی طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں امریکن کینسرسوسائٹی سے منسلک ماہرین کی شائع تحقیق کے مطابق 2000 سے 2011 تک سگریٹ نوشی کرنے والے10 لاکھ سے زائد افراد سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اور ان کا تجزیہ ایسے افراد کے طبی ڈیٹا کے ساتھ کیا گیا جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے۔ اعداد و شمار سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے ان میں موت کا امکان سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت دو گنا تھا۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ برائن کارٹر کا کہنا ہے کہ امریکا میں ہر سال 5 لاکھ افراد ایسی بیماریوں کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن کا براہ ِراست تعلق تمباکو نوشی سے ہے، انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار سے اس بات خدشہ ہے کہ اس تعداد میں مزید ہزار افراد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد اور شرح موٹر سائیکل کے حادثات یا انفلوئنزا وائرس سے ہونے والی اموات سے بھی زیادہ ہے۔
امریکا میں تمباکو نوشی کے باعث ہر سال 5 لاکھ افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
ویکیوم کلینر کے ذریعے بیوی کا افیئر پکڑنے والا شوہر، خود بھی عجیب مشکل میں پھنس گیا
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یکدم بڑی کمی
-
کراچی، ڈیلیوری آپریشن کے بعد ڈاکٹرز کا خاتون کے حمل سے انکار، اہل خانہ کا ہنگامہ، تحقیقات شروع
-
سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،ہوشربا انکشافات سامنے آگئے



















































