جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

میک اپ خواتین کو بانچھ پن کے ساتھ دل کی بیماریوں میں بھی مبتلا کردیتا ہے، تحقیق

datetime 11  فروری‬‮  2015 |

مشرق ہو یا مغرب سجنا سنورنا ہرعورت اپنا حق سمجھتی ہے اور عصر حاضر میں ہر طبقے کی خواتین خوبصورت نظر آنے کے لئے میک اپ کے جدید ساز و سامان سے استفادہ ضرور حاصل کرتی ہیں لیکن یہ تمام چیزیں درحقیقت خواتین کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچارہی ہیں۔

امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین نے 31 ہزار 575 خواتین پر مختلف کیمیائی مواد سے بنی لپ اسٹکس اور فیس کریم سمیت میک اپ کے دیگر سامان سے تجربات کئے اور 4 سال تک ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ ان سامان کی تیاری میں استعمال ہونے والے 15 لازمی کیمیائی اجزا خواتین کی صحت کے لئے انتہائی مضر ہیں۔

تحقیقی ٹیم کی سربراہ پروفیسر امبر کُوپر کا کہنا تھا کہ میک اپ کے مسلسل استعمال سے خواتین دل کی بیماریاں، ہڈیوں کی کمزوری اور بانجھ پن کا شکار ہورہی ہیں، اس کے علاوہ نوجوان خواتین میں کینسر کے بڑھتے ہوئے واقعات بھی اسی کا نتیجہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کے نتائج کی روشنی میں اب خواتین کو میک اپ کے بڑھتے استعمال سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…