ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

وقار یونس نے پاکستانی ٹیم کو خبردار کردیا، کیا کہا کلک کر کے جانیں

datetime 18  فروری‬‮  2015 |

سڈنی۔۔۔۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پہلے میچ کی شکست کا ذمہ دار خراب بیٹنگ کو قرار دیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے میچوں میں بھی پاکستان کے خلاف 300 رنز بن سکتے ہیں اور ایسے ہدف کے تعاقب کے لیے بلے بازوں کو تیار رہنا ہوگا۔
پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنا اگلا میچ سنیچر کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل رہی ہے۔وقاریونس نے کرائسٹ چرچ کے ہیگلے اوول میں ٹیم کے تربیتی سیشن کے موقع پر بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کے دوران کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنے اوپر زیادہ دباؤ لے لیا اور ’بھارتی اننگز میں دو بڑی پارٹنرشپ ہوئیں جبکہ پاکستانی بیٹنگ کلک نہ کر سکی۔‘وقاریونس نے کہا کہ آخری اوورز میں بولرز نے کم بیک کیا تھا اور بیٹسمینوں کو تین سو رنز بنانے چاہیے تھے۔انہوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں تین سو رنز ایک معقول سکور ہے۔ آنے والے میچوں میں بھی پاکستانی ٹیم کے خلاف تین سو رنز بن سکتے ہیں لہذا بیٹسمینوں کو اس کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘
وقاریونس نے کہا کہ وہ اپنی اس بات پر ابھی بھی قائم ہیں کہ پاکستانی ٹیم فیورٹ نہیں ہے اور انھوں نے پاکستان میں بھی یہ بات کھلاڑیوں پر سے غیرمعمولی دباؤ ہٹانے کی غرض سے کہی تھی۔یونس خان کی اس وقت فارم نہیں ہے جس کی وجہ سے مسئلہ ہو رہا ہے۔ یونس خان کو کسی طرح سے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ چونکہ پچھلے چند میچوں میں اوپنرز کے جلد آؤٹ ہوجانے پر یونس خان کو ابتدا ہی میں بیٹنگ کے لیے آنا پڑرہا تھا لہذا انہیں اوپنر کھلایا گیا لیکن یہ تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔
وقار یونس
ان کا کہنا تھا کہ ’جب کھلاڑیوں پر دباؤ نہیں ہوتا تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ اچھا کھیلیں۔‘وقاریونس نے یونس خان کو اوپنر اور عمراکمل کو وکٹ کیپر کی حیثیت سے کھلانے کے بارے میں کہا کہ کنڈیشنز دیکھ کر تبدیلی کی جاتی ہے۔’یونس خان کی اس وقت فارم نہیں ہے جس کی وجہ سے مسئلہ ہو رہا ہے۔ یونس خان کو کسی طرح سے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ چونکہ پچھلے چند میچوں میں اوپنرز کے جلد آؤٹ ہوجانے پر یونس خان کو ابتدا ہی میں بیٹنگ کے لیے آنا پڑرہا تھا لہذا انہیں اوپنر کھلایا گیا لیکن یہ تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔‘وقاریونس نے کہا کہ کسی بھی سینیئر کھلاڑی کو ڈراپ کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ تمام کھلاڑی یکساں اہمیت رکھتے ہیں لیکن کوشش یہ کی جاتی ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع دیے جائیں۔پاکستانی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں پر سخت محنت کی جارہی ہے اور انہیں ہر میچ سے قبل حریف ٹیم کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں ویڈیوز کی مدد سے بتایا جاتا ہے اور کپتان کے ساتھ مل کر حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے۔’یہ فٹبال نہیں ہے کہ باہر سے بیٹھ کر ہدایات دے کر کھلاڑیوں کو کنفیوز کیا جائے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…