منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اغواء کے مقدمے میں لکھوی کی بریت مسترد

datetime 13  فروری‬‮  2015 |

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی اغوا کے مقدمے میں بریت کی درخواست مسترد کردی ہے۔

واضح رہے کہ کلر سیداں کے رہائشی داؤد خان کی طرف سے ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف انور خان نامی شخص کے اغوا کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں درج کروایا گیا تھا، جس کے بعد انھیں باقاعدہ طور پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔

جمعے کو اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نوید خان نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ذکی الرحمان لکھوی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل کے خلاف اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا تھا لہٰذا درخواست خارج کی جائے۔

جبکہ پبلک پراسیکیوٹر نبیل تابش نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے سلسلے میں ابھی تفتیش جاری ہے اور جب تک تفتیش کا عمل مکمل نہ ہو جائے لکھوی کے خلاف مقدمہ خارج نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے پراسیکیوٹر اور ملزم کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ذکی الرحمان لکھوی کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

واضح رہے کہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات انتہائی خراب ہو گئے تھے اور ہندوستان کی جانب سے ذکی الرحمن لکھوی پر ممبئی حملے کے ماسڑ مائنڈ ہونے کا الزام لگایا گیا تھا، جس پر پاکستان نے چند سال قبل لکھوی کو مظفر آباد سے واپس آتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمن کی رہائی کا مشروط حکم نامہ جاری کیا تھا ۔

جبکہ ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے لکھوی کی مبئی حملہ کیس میں ضمانت پر تبصرہ کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو تمام لوگوں کے لیے ایک دھچکا قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…