منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

لنکن کے قاتل کا خط 30 ہزار ڈالر میں نیلام

datetime 26  جنوری‬‮  2015 |
ابراہم لنکن سے متعلق یادگاری اشیا آٹھ لاکھ ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہوئیں

امریکہ کے سابق صدر ابراہم لنکن کی بعض یادگار کی نیلامی ہوئی ہے لیکن ان کے ایک خط کا کوئی خریدار نہ ملا جبکہ ان کے قاتل کا خط سب سے زیادہ قیمت پر فروخت ہوا۔

مجموعی طور پر لنکن سے متعلق یادگاروں کو آٹھ لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ میں خریدا گيا ہے۔

مقتول صدر کے بالوں کی ایک لٹ 25 ہزار امریکی ڈالر میں بکی۔ البتہ ان کے اس خط کا کوئی خریدار نہ مل سکا جس میں انھوں نے خانہ جنگی کا اعتراف کیا تھا۔

تاہم ان کے قاتل جان ولکیس بوتھ کی دستخط والے خط کو 30 ہزار ڈالر میں خریدا گیا جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے جاری کیے جانے والے پروانے کی 21 ہزار 250 ڈالر قیمت لگائی گئی۔

ابراہم لنکن کی یادگاروں کے اس ذخیرے کی ابتدا سنہ 1963 میں ہوئی تھی جسے ڈونلڈ ڈو نامی شخص نے ٹیکسس گیلری میں جمع کیا تھا۔

ان کا پانچ سال قبل انتقال ہو گیا۔ اب ان کے بیٹے گریگ کا کہنا ہے کہ نوادرات کے دوسرے شائقین کے لیے اس سے محظوظ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے والد نے خانہ جنگی اور فوجی تاریخ میں دلچسپی کے سبب چیزوں کو جمع کرنا شروع کیا تھا لیکن بعد میں ان کی دلچسپی لنکن اور ان کے قاتل میں زیادہ ہو گئی۔

ابراہم لنکن کے بالوں کی لٹ سرجن جنرل جوزف بارنس نے 14 اپریل سنہ 1865 میں ان کے قتل کے فوراً بعد کاٹی تھی

ڈیلس میں ہیریٹیج آکشن ایرک بریڈلی کے مطابق مجموعی طور پر یہ نیلامی سے امید سے دوگنی قیمت حاصل ہوئی، یعنی 803889 ڈالر۔

ابراہم لنکن کے بالوں کی لٹ سرجن جنرل جوزف بارنس نے 14 اپریل سنہ 1865 میں ان کے قتل کے فوراً بعد کاٹی تھی۔

ہیریٹیج آکشن کے ڈان ایکرمین نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ بوتھ کا خط سب سے زیادہ قیمت میں اس لیے فروخت ہوا کیونکہ لنکن کی موت کے بعد لوگ اس سے اس قدر متنفر ہو گئے تھے کہ اس کے تقریباً تمام خطوط، دستخط اور دستاویزات کو تباہ کر دیا تھا اور 150 سال بعد اس کی موجودگی اسے انتہائی نایاب بناتی ہے۔

ابراہم لنکن کے قتل کے دو عینی شاہدین کے بیانات بالترتیب ساڑھے 27 ہزار اور 14 ہزار 375 ڈالر میں نیلام ہوئے۔

ابراہم لنکن کا خط جس کا کوئی خریدار نہ ملا وہ ٹکڑوں میں تھا اور انھوں نے اسے سنہ 1862 میں بالٹی مور کے ایک وکیل کو لکھا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…