منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

صرف 30 سیکنڈ قبل لاہوری کی پھانسی ٹل گئی

datetime 8  جنوری‬‮  2015 |

لاہور۔۔۔۔ کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت کے قیدی اکرام الحق عرف لاہوری کو علی الصبح تختہ دار پر لٹکایا جانا تھا جس کے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے تاہم مجرم کو اپنے انجام تک پہنچانے سے صرف 30 سیکنڈ قبل پھانسی پرعمل درآمد روک دیا گیا  -کوٹ لکھپت جیل میں صبح ساڑھے 6 بجے قتل کے مجرم اکرام الحق عرف لاہوری کوپھانسی دینا تھی جس کے حوالے سے جیل کے باہر سیکیورٹی کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور گزشتہ روز مجرم کی اہلخانہ سے ا?خری ملاقات بھی کرادی گئی تھی تاہم علی الصبح جب ملزم کو تختہ دار کی جانب لے جایا جارہاتھا تو عین موقع پرفریقین کے درمیان صلح نامہ طے پا گیا جس کے بعد مقتول کے ورثاء4 اور مدعی نے راضی نامہ جیل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا اورعین موقع پر مجرم کی پھانسی روک دی گئی۔اکرام الحق کے وکیل کا کہنا تھا کہ مدعی اور مقتول کے ورثاء4 نے مجرم کو معاف کردیا جس کے بعد اکرام الحق کی سزائے موت پر عمل درآمد صرف 30 سیکنڈ قبل روک دیا گیا جس کے بعد مجسٹریٹ معاملے کو دوبارہ ٹرائل کوٹ میں بھیجے گا جہاں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب اکرام الحق لاہوری کے والد کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان راضی نامہ بغیر کسی دیت کے طے پایا ہے اور مقتول کے ورثا نے میرے بیٹے کو اللہ کے نام معاف کیا ہے جب کہ مخالف پارٹی کے بھی 2 مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکے تھے جنھیں ہم نے بھی معاف کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اکرام الحق عرف لاہوری نے 2001 میں نیئرعباس نامی شخص کو قتل کیا تھا جس کے جرم میں انھیں 2004 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، صدر ممنون حسین نے بھی اکرام الحق لاہوری کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…