منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پیرس: سیاسی رسالے کے دفتر پر حملہ، 12 ہلاک، مگر یہ حملہ کیا کس نے اور وجہ کیا تھی؟

datetime 7  جنوری‬‮  2015 |
 

پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک مزاحیہ سیاسی رسالے کے دفتر میں فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

چارلی ہیبدو نامی رسالے نے 2011 میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکے اپنے سرورق پر شائع کیے تھے جس کے بعد اس کے دفتر پر فائربموں کے ذریعے حملہ بھی کیا گیا تھا جب کہ گذشتہ ہفتے اس میگزین نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کے حوالے سے ٹوئٹ کی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔

بی بی سی کے مطابق ہفتہ وار فکاہیہ رسالہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی اور حالات حاضرہ کی خبروں پر اپنے مزاحیہ تبصروں کی وجہ سے متنازع رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے صدر فرینسکو ہالینڈ نے جائے وقوعہ کے دورے سے قبل ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے فرانس کی سکیورٹی کو بڑھا دیا ہے اور ہنگامی طور پر کیبنٹ میٹنگ بھی طلب کرلی ہے۔

فرانسیسی پولیس ایک افسر کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد مسلح افراد ایک کار پر سوار ہو کر پیرس کے شمالی حصے کی جانب فرار ہوئے ہیں۔

پولیس افسر روکو کونٹینٹو کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے کسی اور مقام پر حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا جس کی وجہ سے سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاوس نے حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے سکیورٹی حکام فرانس کے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان نے ایم ایس این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ اگر حملہ آوروں کی تعداد زیادہ ہوئی تو امریکا انہیں ڈھونڈنے کی کوشش میں فرانسیسیوں کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں۔

اس حملے میں دیگر 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار یا پانچ افراد شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

ایک عینی شاہد بینوٹ برینگر نے مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے دو نقاب پوش افراد کو کلاشن کوف رائفلز کے ساتھ عمارت میں جاتے ہوئے دیکھا جس کے تھوڑی ہی دیر بعد اس نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں۔

کسی بھی گروپ یا تنظیم کی جانب سے اب تک حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

پیرس میں قائم ایک مسجد کے پیش امام حسین چلگہومی نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی نہیں ہے اور نا ہی یہ اسلام کی تعلیمات ہیں۔

انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بہت جلد فرانس دوبارہ متحد ہو جائے گا اور یہ سب اختتام پذیر ہوگا۔

ادھر برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے واقعہ کو گھناؤنا قرار دیا ہے۔ امریکا کے صدر باراک اوباما، جرمن چانسلر انجلا مارکل،عرب لیگ اور ایک الاظہر نے بھی اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…