منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پی ائی اے کامالی بحران سنگین ہو گیا

datetime 6  جنوری‬‮  2015 |

کراچی۔۔۔۔۔پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کامالی بحران مزیدشدت اختیارکرگیا، قومی ادارے کا مجموعی خسارہ300 ارب روپے تک پہنچ گیا۔پی ائی اے نے کٹھمنڈو، فرینکفرٹ، ہانگ کانگ، بنکاک، سنگاپور، کولمبو، ایران، شکاگو، ہوسٹن، ترکی، گلاسگو، ایمسٹرڈم سمیت دیگربین الاقوامی روٹس بند کردیے، یہ روٹس گزشتہ کئی سال سے بندہیں لیکن انتظامیہ ان منافع بخش روٹس پرپروازیں چلانے کیلیے انتظام نہیں کرسکی جس کی بنیادی وجہ ایئرکرافٹس کی کمی بتائی جاتی ہے، بھاری معاوضوں پر ایڈوائزرز بھرتی کیے گئے۔عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجودپی ائی اے انتظامیہ نے کراچی سے جدہ کے ٹکٹ میں 8 ہزار روپے کا اضافہ کردیا جس کی منظوری بورڈسے بھی نہیں لی گئی، تفصیلات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن انتظامیہ گزشتہ کئی سال سے بنداہم بین الاقوامی روٹس پرپروازیں چلانے کیلیے انتظامات نہیں کرسکی۔جن ممالک کی پروازیں بند ہیں وہاں پاکستانیوں کی اکثریت رہائش پذیرہے، ان منافع بخش بند روٹس پردیگر ایئر لائنز کاروبار کررہی ہیں۔1999میں پی ائی اے کے فضائی بیٹرے میں 47 ایئرکرافٹس تھے جن میں سے اب صرف 24پرواز کے قابل بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے 6 ایئر کرافٹس بلغاریہ، اردن اورترکی سے لیزپر حاصل کیے گئے ہیں۔دوسری جانب کراچی میں عمرہ سیزن شروع ہوتے ہی کراچی سے جدہ جانے والے مسافروں کو سیٹیوں کی عدم دستیابی کاسامنا کرنا پڑ رہاہے۔۔ واضح رہے کہ پی ائی اے کو رواں مالی سال میں27ارب جبکہ مجموعی خسارہ3 کھرب تک پہنچ گیاہے۔ اس کے باوجود پی ائی اے نے بھاری معاوضے پر2 ایڈوائزر مقرر کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…