منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

افغان صدر اشرف غنی بھی سی آئی اے پر برس پڑے

datetime 11  دسمبر‬‮  2014 |

کابل۔۔۔۔افغان صدر اشرف غنی نے سی آئی اے کے بارے میں امریکی سینیٹ کی رپورٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے سی آئی اے نے دنیا کی تمام انسانی حقوق کی اقدار کو پامال کیا ہے۔
اشرف غنی دنیا کے ان بہت سے رہنماوں میں شامل ہیں جنھوں نے خلیج گوانتانامو میں قید القاعدہ کے مشتبہ ارکان پر امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی طرف سے تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔امریکی کی سینیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے کی طرف سے القاعدہ کے مشتبہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے باوجود کوئی ایسی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں جن سے دہشت گردی کے کسی منصوبے کو ناکام بنانے میں مدد ملی ہو۔اس رپورٹ میں مزیدکہا گیا کہ امریکی کی خفیہ ایجنسی نے سنہ 2001 سے 2007 تک چلنے والے پروگرام کے بارے میں سیاست دانوں اور عوام کو گمراہ کیا تھا۔سی آئی اے نے اپنے طریقہ کار اور اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وجہ سے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اْس نے معصوم لوگوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی ہے۔امریکی صدر براک اوباما نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ سی آئی اے کے بہت سے اقدامات تشدد کے ضمرے میں آتے ہیں لیکن یہ وقت آگے بڑھنے کا ہے۔اس رپورٹ میں کسی ایک ملک کا نام بھی ظاہر نہیں کیا گیا جہاں سی آئی اے کی یہ ’فیسیلٹیز‘ یا حراستی مراکز یا قائم تھے لیکن کئی ملکوں نے جن پر شبہہ ہے کہ وہاں یہ مراکز قائم تھے اس رپورٹ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے ایک پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کے بارے میں کہا کہ یہ بہت ’نفرت انگیز‘ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے تشدد اور اقدامات کا کوئی جواز نہیں ہے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یہ معلوم کرنا چاہیں گے کہ کتنے افغان شہریوں کو امریکی حراستی مراکز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یکم جنوری کے بعد امریکہ کو افغانستان میں کسی کو قید میں رکھنے کا اختیار نہیں رہے گا۔پولینڈ کے سابق صدر نے پہلی مرتبہ سر عام اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک میں سی آئی اے کا حراستی مرکز قائم تھا۔الیگزنڈر کووینسکی نے کہا کہ انھوں نے سنہ 2003 میں امریکہ پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ان پرتشدد طریقوں کو بند کریں۔
انھوں نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صدر بش پر واضح کر دیا تھا کہ ایسا تعاون جلد ختم ہونا چاہیے اور یہ ختم ہو گیا۔لتھوینیا کے وزیر اعظم ایلگرداس بٹکیوس نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ بتائے کہ ان کے ملک میں سی آئی اے کے حراستی مرکز میں قیدیوں سے تفتیش کی گئی تھی کہ نہیں۔
لتھوینیا کی طرف سے کی گئی تحقیقات سے پتا چلا تھا کہ سی آئی اے نے لتھوینیا کے دارالحکومت کے قریب ایک حراستی مرکز قائم کیا تھا لیکن اس تحقیقات سے یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ کیا سی آئی اے نے یہاں قیدیوں سے تفتیش بھی کی تھی یا نہیں۔جرمنی کے وزیر خارجہ نے بدھ کو امریکی اقدامات پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ جو اْس وقت اسلامی شدت پسندی کے خلاف درست تصور کیا گیا تھا وہ ناقابل قبول تھا اور ایک فاش غلطی تھی۔جب سنہ 2009 میں براک اوباما نے عہد? صدارت سنبھالا تھا تو انھوں نے سی آئی اے کے تفتیشی پروگرام کو روک دیا تھا۔جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹینمائر نے یہ معلومات عام کرنے پر صدر اوباما کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اپنے پیش رو صدور سے مختلف رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور انسداد دہشت گردی پر خصوصی اہلکار بن ایمرسن نے کہا ہے کہ سابق صدر بش کی انتظامیہ میں شامل جن اہلکاروں نے تشدد کرنے کی منظوری دی ان پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور سی آئی اے اور امریکی حکومتی اہلکاروں پر بھی جو اس تشدد کے ذمہ دار تھے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…