بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پولیس اہلکار پر فردِ جرم عائد نہ کرنے پر امریکہ کی ریاست مزوری میں ہنگامے

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

فرگوسن ۔۔۔۔امریکہ کی ریاست مزوری میں اگست میں سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے مقدمے میں جیوری نے گولی چلانے والے پولیس اہلکار پر فردِ جرم عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی صدر اور مائیکل براؤن کے اہلِ خِانہ کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود فیصلے کے بعد فرگوسن کے علاقے میں ہنگامہ آرائی ہوئی ہے اور متعدد عمارتیں نذرِ آتش کر دی گئی ہیں۔پیر کی شام گرینڈ جیوری کا فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی وکیل رابرٹ میکلاؤچ کا کہنا تھا کہ جیوری کا کام حقائق کو فسانے سے الگ کرنا تھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پولیس اہلکار نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔مائیکل براؤن کے اہلِ خانہ نے اس فیصلے پر ’شدید مایوسی‘ کا اظہار کیا ہے۔مزوری کے علاقے فرگوسن میں پولیس اہلکار ڈیرن ولسن نے 18 سالہ مائیکل براؤن کو رواں برس 9 اگست کوگولی مار کر ہلاک کردیا تھا جس کے بعد علاقے میں فسادات ہوئے تھے۔پولیس اہلکار کے حق میں فیصلے کی خبر عام ہوتے ہی پیر کی شب سینکڑوں مظاہرین فرگوسن میں جمع ہوگئے اور علاقے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں اور مقامی دکانوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا ہے اور لوٹ مار کے بعد انھیں آگ لگا دی ہے جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی ہے جبکہ علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ریاستی وکیل کا کہنا تھا کہ گرینڈ جیوری نے اس مقدمے کے ثبوتوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس مقدمے میں کچھ عینی شاہدین کے بیانات پوسٹ مارٹم سے حاصل ہونے والے ثبوتوں سے متصادم پائے گئے۔فیصلے کے بعد فرگوسن کے علاقے میں توڑپھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ادھر مائیکل براؤن کے اہلِ خانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم شدید مایوس ہیں کہ ہمارے بچے کا قاتل اپنے کیے کی سزا نہیں بھگتے گا۔‘
تاہم انھوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ’ہمیں اس نظام کو درست کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے جس نے ایسا ہونے دیا۔‘امریکی صدر براک اوباما نے بھی اپنے بیان میں اس فیصلے سے اختلاف کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن انداز میں احتجاج کریں۔ انھوں نے پولیس سے بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے۔اس سے قبل گرینڈ جیوری کے فیصلے کے پیش نظر مزوری کے گورنر جے نکسن نے ریاست میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور نیشنل گارڈز کے 400 اہلکاروں کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے طلب کر لیا گیا۔مائیکل براؤن کے قتل کے باعث علاقے میں نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوا اور زیادہ تر سیاہ فام افراد یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ولسن پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔پولیس اہلکار ڈیرن ولسن کو اس واقعے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا اور ان کی تنخواہ روک دی گئی تھی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب مائیکل براؤن کو گولی ماری گئی وہ اپنے ہاتھ بلند کر چکا تھا یعنی وہ نہتا تھا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار کے گولی چلانے سے قبل سیاہ فام نوجوان اور پولیس اہلکار کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…