منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اتنے تو دہشتگرد بھی نہیں جتنوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا گیا،مولانا فضل الرحمان

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں آگ بجھانے کے لئے پانی نہیں تیل چھڑکا جاتا ہے اور ہر روز یہ خبریں آتی ہیں کہ آج اتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جتنے دہشتگردوں کی ہلاکت سے متعلق بتایا گیا اتنے تو دہشتگرد بھی نہیں۔اسلام آباد میں قبائلی جرگے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ دین کا اولین تقاضا انسانیت کو امن فراہم کرنا ہے، آج آزادی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے اور ہم عالمی قوتوں کی غلامی کی طرف جارہے ہیں، اقوام عالم میں مسلمانوں اورپاکستان میں قبائل پر آگ برس رہی ہے۔ ملک میں آگ بجھانے کے لئے پانی نہیں تیل چھڑکا جاتا ہے اور ہر روز یہ خبریں آتی ہیں کہ آج اتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ جتنے دہشتگردوں کی ہلاکت سے متعلق بتایا گیا اتنے تو دہشتگرد بھی نہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو عدل فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہم ریاست کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں لوگ بے گھر ہوئے اور آج تک انہیں گھر نہیں ملا، آئی ڈی پیز کو مشکلات کا سامنا ہے، قبائل کو امن دیا جائے اور اس کے لئے قبائلی جرگے کو اختیارارات دیئے جائیں، جنوبی وزیرستان کے قبائلیوں کا کہنا ہے کہ وانا میں اس وقت جتنا امن ہے اتنا اسلام آباد میں بھی نہیں لیکن اب وہاں ایسے اقدامات شروع کئے گئے ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہاں بھی ایسی صورت حال درپیش آسکتی ہے جو اس وقت شمالی وزیرستان میں ہے۔ بدقسمتی سے وزیر ستان کے لوگ بے گھر ہوئے دوسری جانب پنجاب میں سیلاب آگیا اور ایک جانب اسلام آباد میں پارلیمنٹ اور جمہوریت کو اپنی بقا کی جنگ لڑنی پڑی۔ ملک میں کہیں بھی کوئی قدرتی آفت آئی تو دیگر حصوں سے سامان روانہ کیا گیا لیکن ہمارے ملک میں قبائل کو اس کی ضرورت پڑی کہ ملک کی کوئی جماعت اسے پر اپنی توجہ نہیں دے سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…