منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

طالبعلم سکول میں بم لے آیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

بنوں۔۔۔۔خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک طالبعلم اپنے بیگ میں دستی بم سکول لے کر آ گیا جس کا ڈیٹونیٹر پھٹنے سے بچہ خود زخمی ہو گیا۔ پولیس اس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔بنوں میں تھانہ سٹی کے انسپکٹر محمد رخسار نے بی بی سی کو بتایا کہ نویں جماعت کا ایک طالبعلم اپنے بستے میں ایک دستی بم ساتھ لے کر سکول آ گیا جس کا ڈیٹونیٹر پھٹنے سے وہ خود زخمی ہو گیا ہے۔پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ طالبعلم نے ابتدائی تحقیقات میں بتایا کہ دستی بم اسے کہیں سے ملا تھا جسے وہ بیچنے کے لیے سکول لایا تھا۔ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ سکول میں دستی بم کا خریدار کون تھا اور یہ کہ بچے کو دستی بم کہاں سے ملا تھا۔پولیس کے مطابق طالبعلم بنوں کا رہائشی ہے اور پولیس نے ان کے مکان پر چھاپہ مارا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے گھر میں کہیں مزید اسلحہ یا دھماکہ خیز مواد تو نہیں ہے۔اس کے علاوہ ضلع چارسدہ میں شبقدر کے مقام پر ایک مکان میں دستی بم کا دھماکہ ہوا جس میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق مکان کے افراد اپنے گھر کا سامان دوسرے مکان میں منتقل کر رہے تھے کہ اس دوران ان کے سامان میں دھماکہ ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مدعیان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ دستی بم ان کے سامان میں کیسے آیا۔
خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں دستی بم یا دیگر دھماکہ خیبر مواد بچوں کو راستے میں ملے جس سے دھماکے بھی ہوئے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سنہ 2010 کے سیلاب کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے بعض علاقوں میں پانی سے بارودی سرنگیں ملی تھیں جو جنوبی وزیرستان سے آنے والے سیلابی ریلوں میں آئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…