منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں ہر دس میں چھ مرد اپنی بیوی کوپیٹتے ہیں

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر دس میں چھ مرد اپنی بیوی یا پھر خاتون دوست کو پیٹتے ہیں۔ بی بی سی کے مطا بق اقوام متحدہ کے ورلڈ پاپولیشن فنڈ اور واشنگٹن میں واقع انٹریشنل سینٹر فار ریسرچ آن ویمن کی ایک مشترکہ تحقیق کے دوران دس میں سے چھ بھارتی مردوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا۔اس تحقیق کے دوران بھارت کی سات ریاستوں میں 18 سے 49 سال کی عمر کے 9205 مرد شامل ہوئے۔اس رپورٹ میں یہ سامنے آیا کہ جن مردوں نے اپنے بچپن میں کسی قسم کے تعصب کا سامنا کیا تھا یا پھر جنھیں مالی مسائل کو سامنا کرنا پڑا، وہ خواتین کے بارے میں زیادہ متشدد انداز رکھتے ہیں۔مطالعے کے مطابق خود اپنی زندگی میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والے مرد اپنی ساتھی خواتین کے ساتھ چار گنا زیادہ پرتشدد رویہ اپناتے ہیں اس تحقیق میں بھارت کی ریاست اتر پردیش، راجستھان، پنجاب، ہریانہ، اڑیسہ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کو شامل کیا گیا تھا۔تحقیق میں شامل شامل کئی خواتین کے نزدیک میاں بیوی کے رشتے میں ایسا تشدد عام بات ہیبھارت میں جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے کے مطابق 2013 میں ہندوستان میں خواتین کے خلاف جتنے جرائم ہوئے ان میں 38 فیصد خواتین اپنے شوہر اور ان کے رشتہ داروں کی بے رحمی کا شکار ہوئیں۔اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین کی بڑی تعداد گھریلو تشدد کے بارے میں پولیس کو شکایت نہیں کرتی۔اس تحقیق میں 3158 خواتین بھی شامل تھیں اور ان میں سے نصف سے زائد نے تسلیم کیا کہ انھیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان خواتین کو زیادہ تر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں تھپڑ مارنے، دھمکانے، گلا دبانے اور جھلسانے جیسے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ کے مطابق خواتین کو اس کے علاوہ جذباتی، جنسی اور معاشی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔تحقیق میں شامل شامل کئی خواتین کے نزدیک میاں بیوی کے رشتے میں ایسا تشدد عام بات ہے۔بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں عورتوں کے خلاف گھریلو تشدد رپورٹ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ عورتوں میں زیادہ آگہی اور پولیس اور غیر سرکاری تنظیموں کا سرگرم ہونا ہے۔
بھارت میں سنہ 2003 میں گھریلو تشدد کے 50,703 کیس رپورٹ ہوئے تھے جو 2013 میں بڑھ کر 118,866 تک پہنچ گئے ہیں جو دس برسوں میں 134 فیصد اضافہ ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…