ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جوڈیشل کمیشن میں ایجنسیوں کی نمائندگی کا مطالبہ حیران کن ہے، اسحاق ڈار

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے جوڈیشل کمیشن میں ایجنسیوں کی نمائندگی کا مطالبہ حیران کن ہے انہیں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم چاہئے یا جوڈیشل کمیشن۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور زاہد حامد کے ہمراہ میڈیا پریفنگ کے دوران وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو ہم بھی تیار ہیں لیکن تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں کم وبیش تمام باتیں طے پاچکی تھیں، چند ناپسندیدہ واقعات کے علاوہ دنیا بھر سے آئے ہوئے مبصرین اور عالمی اداروں نے 2013 کے انتخابات کو ملک کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات قرار دیئے، عمران خان کی جانب سے جوڈیشل کمیشن میں ایجنسیوں کی نمائندگی کا مطالبہ حیران کن ہے، آئین سے ہٹ کرکوئی کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔ جوڈیشل کمیشن میں صرف ججز ہوتے ہیں، اس میں ایجنسیوں کے لوگ نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جنگل کا قانون ہے نہ ہی بادشاہت کہ جس کے جو جی میں آئے وہ کرے، حکومت ہر کام آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کرے گی، حکومت اگر چاہے بھی تو عمران خان کا مطالبہ نہیں مان سکتی، حکومت کو کمیشن میں شامل ججوں کے نام بھی تجویز کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، کمیشن کے لئے ججوں کے نام بھی عدالت ہی دیتی ہے، وزیراعظم نے دھاندلی کی شکایات کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا ہے، جیسے ہی سپریم کورٹ سے نام دیئے جائیں گے حکومت فوری طور پر نوٹی فکیشن جاری کردے گی۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اکثریت کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے، ذاتی پسند نا پسند پر اختلافات مناسب نہیں، چیف الیکشن کمشنرکی تقرری کے لئے قائد حزب اختلاف آئندہ ایک دو روز میں پارلیمانی کمیٹی کو 3 نام بھجوا دیں گے جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ان ناموں پر غور ہوگا اور پارلیمانی کمیٹی ہی چیف الیکشن کمشنر کے نام کی حتمی منظوری دے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے جہاں ملک کو معاشی حوالوں سے بہت نقصان ہوا وہیں بین الاقوامی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچا لیکن حکومت ملک کو معاشی بحالی کی جانب گامزن کرنے کے لئے تمام تر اقدام کرے گی، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند روز میں معیشت دوبارہ بہتری کی جانب گامزن ہوئی ہے، روپے کی قدر مستحکم ہورہی ہے اوراسٹاک مارکیٹ بہتر ہورہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…