منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی سمندری طوفان نیلو فر سے لاعلم

datetime 28  اکتوبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کی خاتون رکن شازیہ فاروق شوہر کو دہشتگرد کہے جانے پر آبدیدہ ہو گئیں ، سپیکر سراج درانی نے سمندری طوفان نیلو فر سے لاعلمی کا اظہار کر کے ایوان کو حیران کر دیا۔سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا تو ایم کیو ایم کی رکن شازیہ فاروق اپنی نشست پر کھڑی ہوگئیں۔ سپیکر سراج درانی انہیں قواعد و ضوابط سمجھاتے رہے لیکن شازیہ فاروق اپنے موقف پر ڈٹی رہیں۔ اس موقع پر شازیہ فاروق آبدیدہ ہوگئیں تو دیگر اراکین نے انہیں تسلیاں دیں اور چپ کرایا۔ ایم کیو ایم کی رکن ارم عظیم فاروقی نے نیلوفر طوفان کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ نیلو فرطوفان تیزی سے بڑھ رہا ہے ، سندھ حکومت کیا کر رہی ہے جس پر سپیکر نے طوفان نیلو فر سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیلوفر کوں ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایوان کو بتایا نیلو فر طوفان کے حوالے سے حکومت سنجیدہ ہے۔ شرجیل میمن نے کہا طوفان کے حوالے سے تمام ادارے ہائی الرٹ ہیں اور ساحل سمندر پر بھی دفعہ 144 لگائی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…