منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حصص مارکیٹ میں تیزی، 30300 پوائنٹس کی حد عبور

datetime 14  اکتوبر‬‮  2014 |

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کو ممکنہ طور پر1.1 ارب ڈالر قرضوں کے بیک وقت دواقساط جاری ہونے اور ایک بڑے بینک کی جانب سے سیکنڈری پبلک آفرنگ کی توقعات پر کراچی اسٹاک ایکس چینج میں پیر بھی تیزی کا تسلسل قائم رہا جس سے انڈیکس 30300 پوائنٹس کی حد بھی عبور کرگیا۔

60.69 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں مزید46 ارب94 کروڑ63 لاکھ8 ہزار947 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ممکنہ طور پرقرضوں کی 2 اقساط جاری ہونے کی توقعات پر سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھا جبکہ بینکنگ سیکٹر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی مارکیٹ میں تیزی کا باعث بنی۔

ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر39 لاکھ14 ہزار956 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا لیکن اس انخلا کے باوجود مارکیٹ مثبت زون میں رہی کیونکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے2 لاکھ61 ہزار196 ڈالر، میوچل فنڈز 20 لاکھ89 ہزار834 ڈالر، این بی ایف سیز 5 لاکھ 21 ہزار249 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے 10 لاکھ 42 ہزار677 ڈالر سرمایہ کاری کی گئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 235.78 پوائنٹس کے اضافے سے30394.41 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 133.60 پوائنٹس بڑھ کر20509.91 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 255.64 پوائنٹس اضافے سے 49125.41 ہوگیا، کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت 9.44 فیصد زائد رہا،25 کروڑ 17 لاکھ35 ہزارحصص کے سودے ہوئے، کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 430 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں261 کے بھائو میں اضافہ، 151 کے دام میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

 JS-Global-Online

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…