اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی نے مذہب کے حوالے سے اپنی ذاتی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں، تاہم نماز ادا نہیں کرتیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور ریاست کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔جیو نیوز کے مطابق شبانہ اعظمی نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے خاندانی پس منظر اور مذہبی رجحانات پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے تھے، جبکہ ان کی والدہ مسلمان تھیں اور مذہبی روایات پر کسی حد تک عمل کرتی تھیں، تاہم وہ ان معاملات میں زیادہ سختی نہیں کرتی تھیں۔اداکارہ کے مطابق ان کی والدہ عام گفتگو میں اکثر ’ماشاءاللہ‘ اور ’انشاءاللہ‘ جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں، لیکن ان کے شوہر جاوید اختر، جو خود بھی ملحد ہیں، کبھی کبھار ان الفاظ کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہیں۔شبانہ اعظمی نے بتایا کہ جب وہ گفتگو کے دوران ایسے الفاظ بولتی ہیں تو جاوید اختر پوچھتے ہیں کہ وہ بار بار ایسا کیوں کہتی ہیں۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہر وقت ’پربھو جی کی مرضی‘ کہے تو انہیں کیسا محسوس ہوگا؟ تاہم اداکارہ کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ ان کی زبان کا حصہ بن چکے ہیں اور وہ انہیں غیر ارادی طور پر استعمال کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کبھی مذہب کو گہرائی سے سمجھنے یا اس کے بارے میں خاص طور پر جاننے کی خواہش محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے بقول وہ مسلمان ہیں اور انہیں عید، اردو زبان اور برصغیر کے کھانے پسند ہیں، لیکن وہ اور ان کے شوہر نماز ادا نہیں کرتے اور نہ ہی مذہب سے ان کا کوئی گہرا عملی تعلق ہے۔شبانہ اعظمی نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے، اس لیے ریاست کو لوگوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔



















































