ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

یوٹیوبرز، انفلوئنسرز اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمائی کرنےوالوں پر5فیصد ٹیکس لگانے کی منظوری

datetime 15  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے

پاکستانی یوٹیوبرز، انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز پر 5 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عندیہ دیا ہے کہ حکومت مستقبل میں سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کی سمت پیش رفت جاری رکھے گی۔

پیر کے روز ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل ہونے والی کمائی پر ابتدائی طور پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کمیٹی کے رکن سلیم مانڈوی والا نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے بیرون ملک سے آنے والی رقوم متاثر ہو سکتی ہیں اور لوگ قانونی ذرائع کے بجائے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی رقم بھی ایک باقاعدہ آمدن ہے، لہٰذا اسے دیگر ذرائع آمدن کی طرح ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل معیشت کو بھی ملکی ٹیکس نظام کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بحث اور مختلف آراء سننے کے بعد کمیٹی نے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز کی توثیق کر دی۔

اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سپر ٹیکس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہدف مرحلہ وار اس ٹیکس کو ختم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر سال مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

اس موقع پر سینیٹر عبدالقادر نے تجویز دی کہ سپر ٹیکس سے استثنیٰ کی حد 50 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایک ارب روپے کی جائے۔ تاہم چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اگر یہ حد ایک ارب روپے تک بڑھائی گئی تو قومی خزانے کو ہونے والے خسارے کے ازالے کے لیے تقریباً 250 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات کرنا پڑیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…