پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

شیطان اور جن سے پیدا ہونے والے بچے کو چوہدری اسلم کہتے ہیں، ہم مسلمان ہیں اس جملے سے چوہدری اسلم کی والدہ کی کردار کشی ہوتی ہے،چوہدری اسلم کی بیوہ بالی وڈ فلم ’دھریندر‘ پر برہم ، قانونی چارہ جوئی کا عندیہ

datetime 10  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سندھ پولیس کے بہادر افسر چوہدری اسلم کی اہلیہ، نورین اسلم نے بالی ووڈ فلم دھریندر کے حوالے سے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فلم سازوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔جیو ڈیجیٹل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں نورین اسلم نے فلم کے ٹریلر میں چوہدری اسلم کی شخصیت، رحمان ڈکیت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے کردار کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے، اس پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریلر میں موجود ایسے ڈائیلاگز شامل ہیں جو چوہدری اسلم کی والدہ کی توہین کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا:“یہ کہا گیا کہ شیطان اور جن کے تعلق سے پیدا ہونے والے بچے کو چوہدری اسلم کہتے ہیں۔ اس بات سے میری ساس کی کردار کشی ہوتی ہے۔

ہم اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں، یہاں ایسی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں۔ چوہدری اسلم کی والدہ نہایت باحیا اور باپردہ خاتون تھیں۔ اگر فلم میں چوہدری اسلم کے بارے میں غلط بیانی کی گئی تو ہم ان کا حق بچانے کے لیے عدالت جا سکتے ہیں۔”نورین اسلم کا مزید کہنا تھا کہ قصور اداکاروں کا نہیں بلکہ لکھاریوں کا ہوتا ہے۔ بھارتی فلموں میں ہمیشہ پاکستان کی منفی تصویر دکھائی جاتی رہی ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ ایک گرفتار بھارتی افسر نے خود تسلیم کیا تھا کہ اس نے چوہدری اسلم پر جوا کھیلا تھا، مگر اس حقیقت کو چھپا لیا گیا۔رحمان ڈکیت کے کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف چوہدری اسلم کی جدوجہد سب جانتے ہیں۔“ٹی ٹی پی بین الاقوامی طور پر دہشت گرد تنظیم مانی جاتی ہے۔ رحمان ڈکیت کو فلم میں ضرورت سے زیادہ بڑا دکھایا گیا۔ چوہدری اسلم نے اس سے کہیں بڑے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کیا تھا۔

”انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم دیکھ کر ہی معلوم ہوگا کہ کیا سنجے دت کا کردار ٹی ٹی پی سے رابطہ کرتا ہے؟ اور اگر کرتا ہے تو اس کا جواب کیا دیا جاتا ہے۔“چوہدری اسلم کے ہر لفظ سے دنیا واقف ہے۔ وہ بہادری کی ایک علامت تھے اور آج بھی ان کی وڈیوز موجود ہیں جو اس حقیقت کی گواہ ہیں۔”ایک اور گفتگو میں نورین اسلم نے اپنی شادی کے بارے میں بتایا کہ چوہدری اسلم ان کے ماموں زاد تھے اور شادی سے پہلے انہیں پسند کرتے تھے، مگر وہ راضی نہیں تھیں۔“والدہ نے سختی سے راضی کیا مگر آج کہتی ہوں کہ اگر زندگی کروڑ بار بھی ملے تو میں ہمیشہ چوہدری اسلم ہی کا انتخاب کروں گی۔”انہوں نے بتایا کہ 1994 میں جب اسلم ایس ایچ او تھے اور کراچی میں بوری بند لاشوں کا دور تھا تو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے بعد لوگ انہیں چوہدری کے لقب سے پکارنے لگے۔“وہ کہا کرتے تھے کہ ایک دن میری زندگی پر فلمیں بنیں گی کیونکہ میں نے اس ملک کی حفاظت کی ہے۔ میں پٹھان ہوں، مر تو سکتا ہوں مگر اپنی دھرتی سے غداری نہیں کر سکتا۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…