ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

اولمپکس گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی زندگی پر اسٹیج ڈرامہ بن گیا

datetime 26  اگست‬‮  2024 |

لاہور(این این آئی) پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر نئی تاریخ رقم کرنے والے نامور ایتھلیٹ ارشد ندیم کی زندگی کے نشیب وفراز پر اسٹیج ڈرامہ بھی بن گیا، ڈرامے کا نام ”اچھو نیزے باز” رکھا گیا ہےـ ڈرامہ لاہور کے مقامی تھیٹر میں 23 اگست سے چل رہا ہے، ڈرامے”اچھو نیزے باز” کی کہانی 32 سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کو گولڈ میڈل دلوانے والے نامور ایتھلیٹ ارشد ندیم کی زندگی کے گرد گھومتی ہے.اولیمپئن ارشد ندیم کا کردار ساقی خان کر رہے ہیں، دیگر مرکزی کاسٹ میں آفرین خان، فیروزہ علی، رینا ملتانی، فرح خان،رضی خان، عقیل حیدر سمیت فنکار شامل ہیں جبکہ ڈرامے کے پروڈیوسر محمد یوسف ہیں۔

ڈرامے کے ڈائریکٹر اور رائٹر ڈاکٹر اجمل ملک کا کہنا ہے کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ارشد ندیم کا نک نیم ”اچھو” ہے، بچپن میں انہیں اچھو کہاجاتا تھا، ارشد ندیم کے کارنامے نے نہ صرف دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے بلکہ یہ ہماری نوجوان نسل کے لئے رول ماڈل بھی ہیں.انہوں نے کہا کہ ارشد ندیم کی زندگی پر اسٹیج ڈرامہ بنانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ نوجوانوں کو یہ بتایا گیا کہ نامور ایتھلیٹ نے کن نامساعد حالات میں رہ کر یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے جو گزشتہ گئی دہائیوں سے کوئی بھی انجام نہ دے سکا۔ڈاکٹر اجمل ملک نے کہا کہ خوشی ہے کہ ‘اچھو نیزے باز’ ڈرامہ عوام میں بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…