بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

میڈیا کی دنیا کے بے تاج بادشاہ رابرٹ مردوخ نے93 سال کی عمر میں پانچویں شادی رچا لی

datetime 4  جون‬‮  2024 |

کینبرا(این این آئی)آسٹریلیا میں میڈیا کی دنیا کے ٹائیکون رابرٹ مردوخ نے 93 سال کی عمر میں پانچویں شادی کی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان کی شادی کا اعلان ان کے ملکیتی میڈیا کمپنی نیوز کارپ کے اخبارات میں شائع کیا گیا۔امریکی ارب پتی نے روسی نژاد ریٹائرڈ مالیکیولر بائیولوجسٹ 67 سالہ ایلینا زوکووا سے شادی کی جو بیل ایئر کیلیفورنیا میں ان کے زیر ملکیت انگور کے باغ میں منعقد ہوئی۔

نیویارک پوسٹ اور فاکس نیوز سمیت نیوز کارپوریشن سے وابستہ اخبارات اور میڈیا اسٹیشنوں نے بھی جوڑے کی تصاویر شائع کیں۔برطانوی اخبارکے مطابق مردوخ اور ان کی دلہن نے گذشتہ مارچ میں اپنی تیسری بیوی وینڈی ڈین کی میزبانی میں ایک بڑے خاندانی اجتماع کے دوران ایک دوسرے سے تعارف کے بعد اپنی منگنی کا اعلان کیا۔ مردوخ وینڈی ڈین سے سنہ 2013 میں علاحدگی اختیار کر گئے تھے۔مردوخ کی آخری شادی ماڈل اور اداکارہ جیری ہال سے ہوئی تھی، جن سے انہوں نے 2016 میں شادی کی تھی اور 2022 میں ان کی طلاق ہو گئی تھی۔مردوخ کی موجودہ نئی دلہن زوکووا الیگزینڈر زوکوف کی سابقہ اہلیہ ہیں جو ایک روسی ارب پتی اور سیاست دان ہیں اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ان کی بیٹی دشا نے پہلے روسی ارب پتی رومن ابرامووچ سے شادی کی تھی جو انگلش پریمیئر لیگ میں کھیلنے والے چیلسی فٹ بال کلب کے مالک تھے۔گذشتہ موسم خزاں میں مردوخ نے فاکس نیوز اور نیوز کارپوریشن میں اپنے میڈیا ہولڈنگز کی مالک بنیادی کمپنی کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔

اس کے دو بیٹوں نے براعظموں تک پھیلی ہوئی میڈیا سلطنت میں اپنا عہدہ سنبھالا اور جدید امریکی سیاست کی تشکیل میں مدد کی۔رابرٹ مردوخ 1930 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دو مقامی اخبارات خرید کر اپنی میڈیا کی سلطنت قائم کرنا شروع کی۔ اس نے قومی سطح پر پہلا اخبار “دی آسٹریلوی” قائم کیا، جس نے انہیں حکومتوں کیساتھ تعلقات بنانے کے لیے استعمال کیا تاکہ ان پر میڈیا ریگولیٹری پابندیوں کو کم کیا جا سکے۔1952 میں مردوخ کو اپنے آبائی ملک آسٹریلیا میں اپنے والد سے ایک اخبار وراثت میں ملا۔کئی دہائیوں کے دوران انہوں نے ایک خبر اور تفریحی ادارہ بنایا جو ریاستہائے متحدہ اور برطانیہ میں مشہور ہوا۔ وہ “دی ٹائمز آف لندن” اور “دی وال سٹریٹ جرنل” جیسے ممتاز اخبارات کے مالک تھے۔

مردوخ نے ٹیلی ویژن کے میدان میں بھی قدم رکھنے کی کوشش کی، لیکن برطانوی حکومت کے لیے واحد سیٹلائٹ براڈکاسٹنگ لائسنس حاصل کرنے کی بولی ہار گئے۔ البتہ حکومت نے اس وقت اسے نظر انداز کر دیا جب اس نے اسکائی ٹیلی ویژن قائم کیا جو لکسمبرگ سے برطانیہ میں پروگرام نشر کرتا تھا۔مردوخ سلطنت 50 سے زیادہ ممالک میں 800 سے زیادہ کمپنیوں کی مالک ہے اور اس کے اثاثوں کا تخمینہ اربوں ڈالر بتایا جاتا ہے۔



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…