اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا مشہور گانا ”ہے جذبہ جنون”کی ریکارڈنگ باتھ روم میں کی،علی عظمت کا انکشاف

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

لاہور(این این آئی)پاکستان کے مشہور گلوکار علی عظمت نے اپنے مشہور گانا ”ہے جذبہ جنون”کے حوالے سے انکشاف کیاہے کہ ہم نے کراچی کے طارق روڈ پر ایک معمولی سے سٹوڈیو کے باتھ روم میںاس گانے کوریکارڈ کیا تھااور چھوٹے سے باتھ روم کو گتوں کی مدد سے ڈھکا ہوا تھا۔اپنے ایک انٹرویو میں علی عظمت نے کہاکہ ہم نے کراچی کے طارق روڈ پر ایک معمولی سے سٹوڈیو کے باتھ روم میں گانا”ہے جذبہ جنون”ریکارڈ کیا تھا،

اس چھوٹے سے باتھ روم کو گتوں کی مدد سے ڈھکا ہوا تھا،بدبو کی وجہ سے سانس روک ریکارڈنگ کرنی پڑی،ہم نے بڑی مشکل سے اس مشہور گانے کی آواز ریکارڈ کی ۔علی عظمت نے پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ہماری میوزک انڈسٹری کو کسی کی سپورٹ حاصل نہیں ہے،یہ اب بھی ایک کاٹیج انڈسٹری ہے،پاکستانی گلوکار و موسیقار تو وہ ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھ کر میوزک ریکارڈ کرتے ہیں کیونکہ کسی کی کوئی سپورٹ ہی نہیں ہے۔واضح رہے کہ جنون بینڈ کا 1996میں ورلڈ کپ کے موقع پر گایا ہوا گیت ہے جذبہ جنون اس دور کا مقبول ترین گیت سمجھا جاتا تھا جوکہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…