ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

شو چھوڑ جانے کے بعد فاطمہ سہیل سے بات کی تو وہ رو پڑیں، رابعہ انعم

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)ٹی وی میزبان رابعہ انعم نے کہا ہے کہ جب انہوں نے کچھ دن قبل ندا یاسر کا شو چھوڑا تھا تو وہاں سے نکلنے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے فاطمہ سہیل کو فون کیا تھا، جس پر وہ ان کے ساتھ بات کرتے وقت رو پڑی تھیں۔رابعہ انعم 8 نومبر کو ندا یاسر کے مارننگ شو سے اٹھ کر چلی گئی تھیں،

ان کے ساتھ پروگرام میں اداکارہ فضا علی اور محسن عباس حیدر بھی مہمان تھے۔رابعہ انعم نے پروگرام کو چھوڑ کر جانے سے قبل ندا یاسر، اے آر وائے چینل اور پروگرام کے پروڈیوسرز سے معافی بھی مانگی اور کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پروگرام کے دوسرے مہمان کون ہیں۔پروگرام چھوڑنے سے قبل رابعہ انعم نے ندا یاسر کو بتایا کہ انہوں نے گھریلو تشدد کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم کیا ہے اور وہ اس حوالے سے آواز بھی بلند کرتی آ رہی ہیں، جس وجہ سے آج ان کا پروگرام میں بیٹھنا انہیں مناسب نہیں لگ رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ پروگرام میں شریک رہیں تو ان کی تمام کاوشیں ختم ہوجائیں گی، اس لیے وہ مزید اس پروگرام کا حصہ نہیں رہنا چاہتیں، کیوں کہ وہ گھریلو تشدد کے خلاف اٹھائی گئی اپنی آواز کو کم نہیں دیکھنا چاہتیں۔رابعہ انعم کے مذکورہ عمل پر جہاں ان کی تعریفیں کی گئی تھیں، وہیں بعض شخصیات اور افراد نے ان پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ براہ راست ٹی وی پر کسی کی تضحیک کریں، اگر انہیں مسئلہ تھا تو وہ پروگرام میں ہی شرکت نہ کرتیں۔رابعہ انعم نے واضح طور پر محسن عباس حیدر کا نام نہیں لیا تھا لیکن شو سے نکلنے کے بعد انہوں نے ان کی سابق اہلیہ فاطمہ سہیل سے فون پر بات کرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ فون پر بات کرتے وقت دونوں رو پڑی تھیں۔سابق نیوز اینکر نے لوگوں کی تنقید اور تعریف کے بعد اپنی ٹوئٹس میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے قدم کی تعریف کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…