معروف گلوکاروں کے استاد ”استاد غلام مصطفیٰ خان“ انتقال کرگئے

  اتوار‬‮ 17 جنوری‬‮ 2021  |  21:58

نئی دہلی (این این آئی)معروف گلوکارہ لتا منگیشکراور سونو نگم سمیت دیگر کے استاد ’استاد غلام مصطفیٰ خان‘ ممبئی میں انتقال کرگئے۔بھارت کی کلاسیکل موسیقی کے استاد غلام مصطفیٰ خان کا تعلق رام پور کے سہاسوان گھرانے سے تھا اور وہ طویل عرصے سے بیمار تھے۔گزشتہ سال 89 سالہ استاد غلام مصطفیٰ پر فالج کا حملہ ہواتھا جس کے باعث ان کے جسم کا بایاں حصہ مفلوج ہوگیا تھا تاہم وہ اتوار کو ممبئی میں انتقال کرگئے۔استاد غلام مصطفیٰ خان نے متعدد گانوں میں آواز کا جادو جگایا ہے جبکہ کئی گانوں کو موسیقی بھی دی ہے۔بھارتی حکومت نے استاد


غلام مصطفی خان کو ان کی خدمات پر 1991 میں پدما شری، 2003 میں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ، 2006 میں پدما بھوشن اور2018 میں پدما وبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔استاد مصطفی خان کے شاگردوں میں سونو نگم، لتا منگیشکر، اے آر رحمان اور شان سمیت کئی شامل ہیں۔ان کے انتقال پر لتا منگیشکر اور سونو نگم سمیت متعدد شخصیات نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب فلمی دنیا کے بڑے ایوارڈ‘آسکر’جیتنے والی پاکستانی فلم ساز اور سماجی کارکن شرمین عبید چنائے نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔شرمین عبید چنائے کو براعظم ایشیا کے 18 بہترین ہدایات کاروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنہوں نے فلم انڈسٹری میں نمایاں کردار ادا کیا۔یہ فہرست ہانگ کانگ کے لائف اسٹائل میگزین ٹاٹلر کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں ایشیا کے 18 ہدایات کار شامل ہیں۔میگزین کی جانب سے شرمین عبید چنائے سے متعلق بتاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ انہوں نے بہت سے اعزازات حاصل کیے ہیں، وہ ایک صحافی، سماجی کارکن اور فلم ساز ہیں۔کہا گیا کہ شرمینعبید چنائے خواتین کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں اور انہوں نے 2 اکیڈمی ایوارڈز، 6 ایمی ایوارڈز اور ایک نائٹ انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈ حاصل کیا ہے۔شرمین عبید چنائے سے متعلق کہا گیا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے 2012 میں انہیں ہلالِ امتیاز دیا اور اسی سال ٹائم میگزین کی جانب سے انہیں دنیا کی 100 متاثر کن شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ان کی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلموں میں سیونگ فیس اور آ گرل ان دی ریور شامل ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎