ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، معروف فلمساز نے پیمرا پر انگلیاں اٹھا دیں

datetime 28  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)فلم ساز مہرین جبار کا کہنا ہے کہ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگانے سے متعلق ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے۔مہرین جبار نے اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا کہ حال ہی میں پیمرا نے کچھ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی عائد کرکے پھر اس پابندی کو ہٹا لیا تھا۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) سے بات کرتے ہوئے مہرین جبار نے کہا کہ پیمرا والے خود بھی کنفیوژڈ ہیں اور انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پہلے جن ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگائی گئی تو بعد ازاں ان سے پابندی ہٹائی کیوں گئی؟ایک سوال کے جواب میں مہرین جبار کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی کسی طرح کی پابندیوں کی حامی نہیں ہیں، کیوں کہ کسی بھی مواد پر پابندی لگانے کا مطلب اس مواد کو زیادہ وائرل کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے مواد پر پابندیوں پر کہا کہ ان کی نظر میں یہ عمل درست نہیں۔مہرین جبار نے پاکستان میں فلموں پر پابندی اور بعض مواد کو سینسر کرنے پر بھی بات کی اور کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ کچھ اور ہے۔اگرچہ مہرین جبار نے کہا کہ بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، تاہم اس باوجود ان کاکہنا تھا کہ ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ سینسر بورڈ کے علاوہ کچھ اور ہے لیکن انہوں نے دوسرے مسئلے کی وضاحت نہیں کی۔مہرین جبار کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ سینسر بورڈ ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہیے لیکن ہمارے ہاں بعض جگہ پر لگائی جانے والی پابندی بالکل غلط ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…