ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، معروف فلمساز نے پیمرا پر انگلیاں اٹھا دیں

datetime 28  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)فلم ساز مہرین جبار کا کہنا ہے کہ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگانے سے متعلق ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے۔مہرین جبار نے اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا کہ حال ہی میں پیمرا نے کچھ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی عائد کرکے پھر اس پابندی کو ہٹا لیا تھا۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) سے بات کرتے ہوئے مہرین جبار نے کہا کہ پیمرا والے خود بھی کنفیوژڈ ہیں اور انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پہلے جن ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگائی گئی تو بعد ازاں ان سے پابندی ہٹائی کیوں گئی؟ایک سوال کے جواب میں مہرین جبار کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی کسی طرح کی پابندیوں کی حامی نہیں ہیں، کیوں کہ کسی بھی مواد پر پابندی لگانے کا مطلب اس مواد کو زیادہ وائرل کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے مواد پر پابندیوں پر کہا کہ ان کی نظر میں یہ عمل درست نہیں۔مہرین جبار نے پاکستان میں فلموں پر پابندی اور بعض مواد کو سینسر کرنے پر بھی بات کی اور کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ کچھ اور ہے۔اگرچہ مہرین جبار نے کہا کہ بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، تاہم اس باوجود ان کاکہنا تھا کہ ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ سینسر بورڈ کے علاوہ کچھ اور ہے لیکن انہوں نے دوسرے مسئلے کی وضاحت نہیں کی۔مہرین جبار کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ سینسر بورڈ ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہیے لیکن ہمارے ہاں بعض جگہ پر لگائی جانے والی پابندی بالکل غلط ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…