ٹی وی ڈراموں کی وجہ سے جرائم میں اضافہ، شوبز شخصیات نے وزیر ریلوے کو کھری کھری سنا دیں

  اتوار‬‮ 20 ستمبر‬‮ 2020  |  0:29

لاہور( این این آئی ) شوبز شخصیات نے ٹی وی ڈراموںکی وجہ سے جرائم بڑھنے کے وزیر ریلوے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جرائم پر سزا نہ ملے تو اس میں ٹی وی ڈراموں کا کیا قصور ہے ۔ سینئر رائٹرو اداکارانورمقصودنے کہا کہ ڈرامے اس کے ذمہ دار نہیںلیکن بہتری کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور شعور کی کمی کو جرائم میں اضافے کی وجہ قرار دیا ۔جرائم میں اضافے کا تعلق ڈراموں سے نہیں، اگر تعلیم یافتہ لوگ ڈرامے دیکھیں تو وہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ڈرامہ کیا ہے،


پھر بھی ہمارے ڈرامے کو بہتر ہونا پڑے گا وقت کو تو بدلنا ہے اب یہ ایک حد ہوگئی ہے۔اداکارہ حنا خواجہ یبات نے سوال اٹھا یا الزام لگانے والے بتائیں قانون کا نفاذ اور مجرم کو سزا دینا کس کا کام ہے؟یہ کہنا کہ ٹی وی ڈراموں کی وجہ سے جرم بڑھ رہے ہیں یا گناہ ہورہے ہیں یہ بے وقوفی کی بات ہے، آج اگر جرائم بڑھ رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قوانین بن تو جاتے ہیں مگر ان کا نفاذ نہیں ہوتا، ڈرامہ تو مثالیں قائم کر رہا ہے تربیت کا فقدان ہے قوانین کا نفاذ ہمارا کام نہیں ہے۔فیصل قریشی کا کہنا تھاکہ ڈرامے تو صحیح اور غلط کا فرق بتاتے ہیں، ڈراموں میں جو دکھایا جاتا ہے وہ وہ ہوتا ہے جو ہوچکا ہوتا ہے،خدارا الزامات کا یہ سلسلہ بند کرکے وہ کام کیا جائے جو کرنا چاہیے ۔ماڈل سنیتا مارشل کا کہنا تھا تربیت کا فقدان ایسے رویوں کو جنم دے رہا ہے، صرف اس طرح کے عنوانات کے ڈراموں کو بند کرنا میرا نہیں خیال کہ کوئی حل ہے، میں اس پر یقین نہیں رکھتی، ایسے ڈراموں کے اوقات تبدیل کردیں اور اس طرح کا مواد چلنے سے پہلے ضرور پی جی کا سائن لگائیں ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎