جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

”غیر اخلاقی مواد پر مبنی ڈراموں کو بند کیوں کیا؟“ عتیقہ اوڈھو پیمرا اور حکومت پر برس پڑیں، اداکارہ کی ڈراموں کے حق اور پیمرا کے فیصلے کیخلاف عجیب منطق

datetime 11  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) اداکارہ عتیقہ اوڈھوغیر اخلاقی مواد دکھانے والے ڈراموں پر پیمرا کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی سے بالکل خوش نہیں۔پاکستانی الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے چند روزقبل سماجی اور مذہبی اقدار کے منافی مواد دکھانے پر پاکستانی نجی چینل کے دو ڈراموں ”پیارکے صدقے“ اور ”عشقیہ“ کے نشر مکرر پر پابندی لگادی تھی۔جہاں ڈرامے کے

پروڈیوسرز و ڈائریکٹرز نے پیمرا کے اس فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا وہیں ڈراما سیریل ”پیار کے صدقے“ میں اہم کردار ادا کرنے والی اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے پیمرا کے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔گزشتہ روز انہوں نے انسٹاگرام پر ایک لمبی چوڑی پوسٹ کی جس میں انہوں نے ڈراموں پرپابندی لگانے کے پیمرا کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ”کیا واقعی پیمرا؟ کیا یہی جمہوری طرززندگی ہے؟ ڈراموں نے اہم معاشرتی مسائل پیش کیے جنہیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ڈراموں میں دکھائے جانے والے مواد سے لوگوں کوذہنی صحت، معاشرتی نا انصافیوں، منافقتوں اور طاقت کے غلط استعمال وغیرہ کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔اگرہم ان مواد پرجمی گرد کو صاف نہیں کریں گے اوران پر بحث و مباحثہ نہیں کریں گے تو ہم بطورایک قوم کبھی بھی مثبت تبدیلی کی طرف ترقی نہیں کریں گے۔ ڈرامے دیکھنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنا بند کردیں جیسے وہ بیوقوف ہیں اورباقی دنیا میں یہ سب نہیں دکھایا جارہا۔عتیقہ اوڈھو نے پیمرا کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا کو ڈراموں کے ذریعے معاشرتی آگاہی بیدار کرنے کی پالیسیزبنانی ہوں گی۔ اپنی پوسٹ کے آخرمیں انہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا ”تبدیلی تبدیلی تبدیلی انصاف انصاف انصاف“۔واضح رہے کہ نجی چینلوں پر دکھائے جانے والے ڈراموں کے مواد پر صارفین نے اعتراض اٹھایا تھا کہ

ان ڈراموں میں معاشرتی اقدار کے خلاف مواد دکھایا جارہا ہے جب کہ گزشتہ ماہ ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا تھا کہ کچھ ڈراموں میں مقدس رشتوں کی تذلیل کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…