منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

سشانت کونسی خطرناک بیماری کا شکار تھے؟  ڈاکٹرزکا اہم انکشاف

datetime 5  ستمبر‬‮  2020 |

ممبئی (این این آئی)سشانت سنگھ راجپوت خودکشی کیس میں اب سی بی آئی کے علاوہ ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سشانت سنگھ راجپوت کے ڈاکٹرز نے ممبئی پولیس سے پوچھ گچھ کے دوران یہ انکشاف کیا کہ سشانت بائپولر ڈس آرڈر نامی بیماری میں مبتلا تھے۔انہوں نے بتایا کہ

سشانت گزشتہ تیرہ سالوں سے اٹینشن ڈیفیسیٹ ہائیپر ایکٹویٹی ڈس آرڈر (ADHD) نامی بیماری میں بھی مبتلا تھے۔سشانت کے ڈاکٹروں کے مطابق سشانت کا علاج چل رہا تھا اور وہ مختلف دوائیں بھی لے رہے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سشانت کی بہن نے بھی ممبئی پولیس کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سال 2013 میں سشانت کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔گزشتہ دنوں سشانت کی سابق مینیجر شرتی مودی کے وکیل نے کہا تھا کہ سشانت کے اہل خانہ جانتے تھے کہ وہ عادتا ڈرگس لیتے ہیں۔شرتی مودی کے وکیل نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ گھر پر جو بھی پارٹیاں ہوتی تھیں، اس میں سشانت کی بہن بھی شامل ہوتی تھیں، ان کی ایک بہن ممبئی میں ہی رہتی ہیں۔وکیل نے پارٹی میں شامل ہونے والی سشانت کی بہن کا نام نہیں بتایا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ ریا چکرورتی کے ساتھ ریلیشن میں آنے سے پہلے سے ہی سشانت ڈرگس لے رہے تھے۔بائپولر ڈس آرڈر ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض کا ذہن مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ بائپولر ڈس آرڈر میں مریض کبھی بہت زیادہ خوش ہوجاتا ہے تو کبھی بہت زیادہ دکھی ہوجاتا ہے۔ اس بیماری کے بڑھ جانے پر مریض خودکشی کرنے کی بھی کوشش کرسکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ بائپولر ڈس آرڈر ڈپریشن کا ہائی لیول ہے، یہ ایک طرح کی ذہنی بیماری ہے۔ بائپولر ڈس آرڈر ہونے سے پہلے مریض ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ڈپریشن کا علاج نہ ہو پانے کی وجہ سے مریض بائپولر ڈس آرڈر کا شکار ہونے لگتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…