ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

سشانت کونسی خطرناک بیماری کا شکار تھے؟  ڈاکٹرزکا اہم انکشاف

datetime 5  ستمبر‬‮  2020 |

ممبئی (این این آئی)سشانت سنگھ راجپوت خودکشی کیس میں اب سی بی آئی کے علاوہ ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سشانت سنگھ راجپوت کے ڈاکٹرز نے ممبئی پولیس سے پوچھ گچھ کے دوران یہ انکشاف کیا کہ سشانت بائپولر ڈس آرڈر نامی بیماری میں مبتلا تھے۔انہوں نے بتایا کہ

سشانت گزشتہ تیرہ سالوں سے اٹینشن ڈیفیسیٹ ہائیپر ایکٹویٹی ڈس آرڈر (ADHD) نامی بیماری میں بھی مبتلا تھے۔سشانت کے ڈاکٹروں کے مطابق سشانت کا علاج چل رہا تھا اور وہ مختلف دوائیں بھی لے رہے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سشانت کی بہن نے بھی ممبئی پولیس کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سال 2013 میں سشانت کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔گزشتہ دنوں سشانت کی سابق مینیجر شرتی مودی کے وکیل نے کہا تھا کہ سشانت کے اہل خانہ جانتے تھے کہ وہ عادتا ڈرگس لیتے ہیں۔شرتی مودی کے وکیل نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ گھر پر جو بھی پارٹیاں ہوتی تھیں، اس میں سشانت کی بہن بھی شامل ہوتی تھیں، ان کی ایک بہن ممبئی میں ہی رہتی ہیں۔وکیل نے پارٹی میں شامل ہونے والی سشانت کی بہن کا نام نہیں بتایا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ ریا چکرورتی کے ساتھ ریلیشن میں آنے سے پہلے سے ہی سشانت ڈرگس لے رہے تھے۔بائپولر ڈس آرڈر ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض کا ذہن مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ بائپولر ڈس آرڈر میں مریض کبھی بہت زیادہ خوش ہوجاتا ہے تو کبھی بہت زیادہ دکھی ہوجاتا ہے۔ اس بیماری کے بڑھ جانے پر مریض خودکشی کرنے کی بھی کوشش کرسکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ بائپولر ڈس آرڈر ڈپریشن کا ہائی لیول ہے، یہ ایک طرح کی ذہنی بیماری ہے۔ بائپولر ڈس آرڈر ہونے سے پہلے مریض ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ڈپریشن کا علاج نہ ہو پانے کی وجہ سے مریض بائپولر ڈس آرڈر کا شکار ہونے لگتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…