ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

بالی ووڈ کی معروف کوریوگرافر انتقال کرگئیں

datetime 3  جولائی  2020 |

ممبئی(این این آئی) بالی ووڈ کی مشہور کوریوگرافر سروج خان حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے 3 جولائی  جمعہ کی صبح ممبئی کے مقامی اسپتال میں انتقال کرگئیں۔ ڈانس ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے تقریباً 40 سال تک بالی ووڈ فلم نگری پر حکمرانی کی اور بھارت میں ’’مادرِ رقص‘‘ (مدر آف کوریوگرافی) کا خطاب بھی اپنے نام کیا۔ان کا اصل نام نرملا ناگپال تھا

اور وہ 1948 میں بمبئی (موجودہ ممبئی) میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے صرف تین سال کی عمر سے فلموں میں بطور چائلڈ آرٹسٹ کام شروع کردیا تھا جبکہ نوعمری میں بیک گراؤنڈ ڈانسر کے طور پر بھی دکھائی دیں۔تاہم جلد ہی انہوں نے ڈانس ڈائریکشن اور کوریوگرافی کو اپنا کیریئر بنا لیا اور 2000 سے زائد بالی ووڈ اور تامل فلموں میں کوریوگرافی/ ڈانس ڈائریکشن کی جو بجائے خود ایک ریکارڈ ہے۔ان کی کوریوگراف کی ہوئی فلموں میں ہیرو، مسٹر انڈیا، تیزاب، چاندنی، سیلاب، ڈر، آئینہ، بازی گر، مہرہ، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، ہم دل دے چکے صنم، تال، لگان، دیوداس، منگل پانڈے، فنا، جب وی میٹ، دلی 6، اے بی سی ڈی اور گلاب گینگ جیسی سپر ہٹ فلمیں شامل ہیں۔ شاہ رخ خان اور عامر خان کے علاوہ انہوں نے مادھوری ڈکشت اور سری دیوی جیسی بڑی اداکاراؤں کو بھی کوریوگراف کیا۔خبروں کے مطابق وہ پچھلے کئی مہینوں سے دل کی تکلیف میں مبتلا تھیں اور ممبئی کے ایک مقامی اسپتال میں داخل تھیں۔ ان کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔ سروج خان کے بھانجے منیش جاگوانی نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ 3 جولائی 2020 جمعہ کو علی الصبح اچانک دل کی دھڑکن بند ہوجانے سے ان کا انتقال ہوا۔سروج خان کی موت پر بالی ووڈ کے تمام بڑے اداکاروں اور کوریوگرافرز نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور اسے انڈین فلم انڈسٹری کیلیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…