علی ظفر کے خلاف ہراسانی کے الزامات پر ٹوئٹ، خاتون صحافی نے معافی مانگ لی

  بدھ‬‮ 19 فروری‬‮ 2020  |  23:08

لاہور (این این آئی)میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کا الزام لگائے جانے کے بعد علی ظفر کے خلاف ٹوئٹس کرنے والی خاتون بلاگر و سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ مہوش اعجاز نے گلوکار سے معذرت کرلی۔مہوش اعجاز نے گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کی جانب سے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے جانے کے بعد علی ظفر کیخلاف متعدد ٹوئٹس کی تھیں۔مہوش اعجاز نے میشا شفیع اور علی ظفر کے کیس کے حوالے سے بلاگ بھی لکھے تھے جن میں انہوں نے دونوں طرف سے کی جانے والی باتوں کا ذکر کیا تھا تاہم ان کی


ہمدریاں میشا شفیع کے ساتھ تھیں۔مہوش اعجاز نے علی ظفر کی فلم’طیفا ان ٹربل کا بائیکاٹ کرنے سمیت انہیں ایک ایوارڈ میں نامزد کرنے کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف ٹوئٹس کی تھیں تاہم اب انہوں اپنی تمام ٹوئٹس کو واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے گلوکار علی ظفر اور ان کے اہل خانہ سے معذرت کی۔مہوش اعجاز نے 18 فرروی کو متعدد ٹوئٹس کے ذریعے علی ظفر کے خلاف کی گئی ٹوئٹس پر وضاحت کرتے ہوئے ان سے اور ان کے اہل خانہ سے معذرت کی۔ابتدائی طور پر مہوش اعجاز نے ایک ٹوئٹ کی کہ وہ علی ظفر اور ان کے اہل خانہ کو تکلیف پہنچانے پر معذرت خواہ ہیں کیوں کہ ان کی جانب سے ہی کچھ واقعات کو سامنے لانے کے بعد ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا تھا۔انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کس خاص وجہ کے باعث علی ظفر اور ان کے اہل خانہ سے معافی مانگ رہی ہیں تاہم انہوں نے اپنی ٹوئٹس میں علی ظفر اور میشا شفیع کے عدالت میں زیر سماعت کیس کا ذکر کیا۔مہوش اعجاز نے لکھا کہ چونکہ علی ظفر اور میشا شفیع کا کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور جلد ہی اس کے نتائج سامنے آنے والے ہیں جس کے بعد لوگوں کو اس بات کا علم ہوجائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟اپنی ایک اور ٹوئٹ میں مہوش اعجاز نے مذکورہ کیس میں متحرک افراد کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ انہیں اس کیس میں پیش پیش کچھ افراد سے مایوسی بھی ہوئی تاہم انہوں نے اس مایوسی کی وضاحت نہیں کی۔اپنی اسی ٹوئٹ میں مہوش اعجاز نے اعلان کیا کہ وہ علی ظفر پر لگائے گئے تمام الزامات والی ٹوئٹس واپس لے رہی ہیں۔معروف بلاگر کی جانب سے معافی کی ٹوئٹس کیے جانے کے بعد کئی افراد نے ان پر تنقید بھی کی جب کہ بہت سارے افراد نے ان کی معذرت اور غلطی ماننے کو بہادری سے بھی تشبیہ دی۔بعض افراد نے مہوش اعجاز پر الزامات لگائے کہ انہوں نے پیسوں کے عوض علی ظفر کے خلاف الزامات لگائے تھے جس کے بعد انہوں نے ایک اور طویل وضاحتی ٹوئٹ کی اور بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی پیسوں کے لیے ٹوئٹس نہیں کیں۔انہوں نے اپنی وضاحتی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’انہوں نے کبھی بھی کسی سے ٹوئٹس کے لیے پیسے نہیں لیے اور نہ ہی وہ پیسوں کے عوض ایسا کرتی ہیں تاہم وہ یہ سب کچھ اپنی سوچ اور ان ثبوتوں کی بنا پر کرتی ہیں جو انہوں نے اس وقت دیکھ رکھے ہوتے ہیں۔انہوں نے اپنی وضاحتی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ کوئی عدالت نہیں، جج و جیوری نہیں، وہ کوئی ایسی اتھارٹی نہیں جو یہ فیصلہ کرے کہ کون مجرم ہے، اس لیے وہ کسی کے حوالے سے فیصلہ کرنے والی نہیں۔مہوش اعجاز نے لکھا کہ وہ حاصل ہونے والی معلومات اور واقعات کو خود دیکھنے کے بعد جو اچھا سمجھتی ہیں وہ لکھتی ہیں تاہم انہیں ملنے والی معلومات نامکمل بھی ہو سکتی ہے اور اگر عدالتیں کسی کو بے قصور ٹھہراتی ہیں تو وہ پہلی شخصیت ہوں گی جو اپنی غلطی کو تسلیم کریں گی۔انہوں نے طویل ٹوئٹ میں لوگوں سے خود پر تنقید کرنے سے روکا اور کہا کہ کم سے کم انہیں پیسوں کے عوض ’بکاؤ‘ نہ سمجھا جائے کیوں کہ انہوں نے ایسا کبھی نہیں کیا۔مہوش اعجاز کی اس وضاحتی ٹوئٹ پر بھی لوگوں نے ان پر تنقید کی اور کہا کہ یہ سب کچھ پہلے سوچنا تھا تاہم بعض افراد نے ان کی تعریف بھی کی اور کہا کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔


موضوعات: