بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں متنازعہ قانون پرخاموشی مظاہرین نے شاہ رخ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں مسلم مخالف متنازعہ قانون پرخاموشی اختیارکرنے پربالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان کے مداح ایک بارپھر ان کے خلاف میدان میں آگئے ہیں اور شاہ رخ خان کوان کے ہی ہِٹ گانے کی مدد سے تنقید کا نشانہ بنادیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق متنازعہ قانون کے خلاف بہت سے اداکاروں نے لب کشائی نہیں کی جن میں سر فہرست بالی ووڈ خانزہیں جنہیں ان کے اس دوغلے پن پر

پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ایک بارپھرنئی دہلی کے شاہین باغ میں متنازعہ قانون کے خلاف مظاہرین نے شاہ رخ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اداکارکو ان کی بلاک بسٹر فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کے معروف گانے ’تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم‘ کی مدد سے تنقید کا نشانہ بنایا جو دیکھتے دیکھتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔مظاہرین نے گانا کچھ اس اندازمیں پڑھ کرسنایا،تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم،شاہ رخ ہوگیا بے گانا صنم،یہ تو یقین آتا نہیں،کیا کہوں میں کیا نہ کہوں،تو سامنے دیکھتا رہا، ہم یہاں پِٹتے رہے،ہم نے آواز دی پر تْو آیا نہیں،تجھ کو دی ہے یہ کس نے قسم۔واضح رہے کہ بالی ووڈ کے بڑے بڑے اداکاروہدایتکاراس معاملے پر نہ صرف آواز اٹھا چکے ہیں بلکہ مودی حکومت پرشدید تنقید بھی کرچکے ہیں تاہم بالی ووڈ خانز کی جانب سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ۔یاد رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے شہریت کے متنازع بل کے تحت 3 ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن جن میں ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جین اوربدھ مت شامل ہیں انہیں بھارت کی شہریت دی جائیگی تاہم مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم رکھا جائیگا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…